غزل

जिंस-ए-गिराँ को तुझ से जो लोग चाहते हैं

जिंस-ए-गिराँ को तुझ से जो लोग चाहते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ان لوگوں کے بارے میں ہے جو آپ سے قیمتی چیزیں چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنی ذات کو بے چین رکھ کر انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ بھی اس مے کے اندر ہے، لیکن ہر لمحہ جدوجہد کرتا ہے۔ آخر میں، شاعر دوستی کی ناموس اور اپنی مشکل پسند مزاجی کو بیان کرتا ہے، جو دیکھنے اور تعریف کرنے के बावजूद भी آسان نہیں ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जिंस-ए-गिराँ को तुझ से जो लोग चाहते हैं वे रोग अपने जी को नाहक़ बसाहते हैं
جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں وے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں
جنسِ گِراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں، وہ اپنے دل میں ناجائز بیماریاں بسا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ آپ سے بہت زیادہ محبت یا خواہش رکھتے ہیں، وہ خود اپنے دل میں دکھ اور تکلیف کا سامان کر لیتے ہیں۔
2
उस मय-कदे में हम भी मुद्दत से हैं व-लेकिन ख़म्याज़ा खींचते हैं हर दम जमाहते हैं
اس میکدے میں ہم بھی مدت سے ہیں ولیکن خمیازہ کھینچتے ہیں ہر دم جماہتے ہیں
اس نشہ آور حالت میں، اگرچہ ہم طویل عرصے سے ہیں، پھر بھی ہم ہر لمحہ دھاگا کھینچتے اور بناتے رہتے ہیں۔
3
नामूस दोस्ती से गर्दन बंधी है अपनी जीते हैं जब तलक हम तब तक निबाहते हैं
ناموس دوستی سے گردن بندھی ہے اپنی جیتے ہیں جب تلک ہم تب تک نباہتے ہیں
ناموس دوستی سے ہماری گردن بندھی ہے؛ ہم جب تک زندہ رہیں گے، تب تک اس رشتے کو نبھاتے رہیں گے۔
4
सहल इस क़दर नहीं है मुश्किल-पसंदी मेरी जो तुझ को देखते हैं मुझ को सराहते हैं
سہل اس قدر نہیں ہے مشکل پسندی میری جو تجھ کو دیکھتے ہیں مجھ کو سراہتے ہیں
میری پسند اتنی آسان نہیں ہے، اور نہ ہی اتنی مشکل، جو لوگ تجھے دیکھتے ہیں اور میری تعریف کرتے ہیں۔
5
वे दिन गए कि रातें नालों से काटते थे बे-डोल 'मीर'-साहिब अब कुछ कराहते हैं
وے دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھے بے ڈول میرؔ صاحب اب کچھ کراہتے ہیں
وہ دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھے، بے-ڈول 'میر'-صاحب اب کچھ کراہتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.