وے دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھے بے ڈول میرؔ صاحب اب کچھ کراہتے ہیں

“The days have passed when nights were cut from the drains, Now the unsteady 'Mir'-sahib groans something.”

— میر تقی میر
معنی

وہ دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھے، بے-ڈول 'میر'-صاحب اب کچھ کراہتے ہیں۔

تشریح

یہ شعر گزرے ہوئے وقت کی یاد میں ایک گہری کرب کا اظہار ہے۔ شاعر اپنے ان دنوں کو یاد کر رہے ہیں جب راتیں نالوں کے کنارے گزرتی تھیں۔ اب وہ خود کو بے سہارا اور کراہتے ہوئے پاتے ہیں، جو وقت کے گزر جانے کا درد ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.