غزل
कहते हो इत्तिहाद है हम को
कहते हो इत्तिहाद है हम को
یہ غزل محبت اور اعتماد کے پیچیدہ جذباتی امتزاج کو پیش کرتی ہے، جہاں شاعر کہتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اتحاد ہے اور ہمیں بھروسہ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس کا دل کہاں تک ہے، یہ معلوم نہیں، کیونکہ اس کا شوق بہت زیادہ ہے۔ یہ غزل حسن سے پیدا ہونے والی بے وفائی کی بات کرتی ہے اور ایک عجیب و غریب، مسلسل چاہت میں ڈوبی ہوئی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कहते हो इत्तिहाद है हम को
हाँ कहो ए'तिमाद है हम को
تم کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو، ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو۔
2
शौक़ ही शौक़ है नहीं मालूम
इस से क्या दिल निहाद है हम को
شوق ہی شوق نہیں معلوم، اس سے کیا دل نِہاد ہے ہم کو۔
3
ख़त से निकले है बेवफ़ाई-ए-हुस्न
इस क़दर तो सवाद है हम को
خط سے نکلی ہے बेवफ़ाई-ए-हुस्न، اس قدر تو سزاد ہے ہم کو۔
4
आह किस ढब से रोइए कम कम
शौक़ हद से ज़ियाद है हम को
اس کا مطلب ہے، 'آہ، کس ڈھب سے روئیے کم کم؟ ہمارا شوق حد سے زیادہ ہے۔'
5
शैख़ ओ पीर-ए-मुग़ाँ की ख़िदमत में
दिल से इक ए'तिक़ाद है हम को
شیخ و پیر-اے-مغاں کی خدمت میں، دل سے ہمیں ایک اِتّقاد ہے۔
6
सादगी देख इश्क़ में उस के
ख़्वाहिश-ए-जान शाद है हम को
اس کی سادگی دیکھ کر، اس کے عشق میں میرا دل خوش ہوتا ہے۔
7
बद-गुमानी है जिस से तिस से आह
क़स्द-ए-शोर-ओ-फ़साद है हम को
وہ شخص جس سے شک پیدا ہوتا ہے اور جس سے ہمیں شور و فساد کی خواہش ہوتی ہے۔
8
दोस्ती एक से भी तुझ को नहीं
और सब से इनाद है हम को
دوستی نہ تو ایک سے ہے اور نہ سب سے، ہمیں تو عنایت ملی ہے۔
9
नामुरादाना ज़ीस्त करता था
'मीर' का तौर याद है हम को
نامرادانہ زیست کرتا تھا، 'میر' کا طر یاد ہے ہم کو۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ نامرادانہ کس انداز میں زندگی گزارتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے شاعر میر کرتے تھے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
