غزل
हो गई शहर शहर रुस्वाई
हो गई शहर शहर रुस्वाई
یہ غزل کسی کی رسوائی کے موضوع پر ہے، جہاں شاعر اپنی موت کو ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ اپنی تنہائی اور ایک نقشہ نگار کی تصویر کا ذکر کرتا ہے، جس کے لیے وہ ہرجائے پانا چاہتا ہے۔ تاہم، شاعر یہ مانتا ہے کہ وہ اپنی کوششوں سے ایسی فضل و کرم حاصل نہیں کر سکتا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हो गई शहर शहर रुस्वाई
ऐ मिरी मौत तू भली आई
اے میری موت، شہر پر جو رسوائی چھا گئی ہے، تو آ کر بھلی ہے۔
2
यक बयाबाँ ब-रंग-ए-सौत-ए-जरस
मुझ पे है बे-कसी-ओ-तन्हाई
اے بیہ ریگستان، ب رنگِ سوتِ جرس۔ مجھ پہ ہے بے کسی و تنہائی۔
3
न खिंचे तुझ से एक जा नक़्क़ाश
उस की तस्वीर वो है हरजाई
شاعر کہہ رہا ہے کہ تجھ سے کوئی نازک تصویر نہیں کھنچ سکتی، کیونکہ وہ تصویر تو ہرجائی (محبوبہ) کی ہے۔
4
सर रखूँ उस के पाँव पर लेकिन
दस्त-ए-क़ुदरत ये मैं कहाँ पाई
اگرچہ میں اپنا سر اس کے قدموں میں رکھنا چاہتا ہوں، لیکن قدرت کی عنایت سے مجھے ایسے ہاتھ کہاں ملیں گے؟
5
'मीर' जब से गया है दिल तब से
मैं तो कुछ हो गया हूँ सौदाई
جب سے میر گئے ہیں، دل تب سے ٹوٹا ہوا ہے، میں تو کچھ ہو گیا ہوں، اے سودی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
