غزل
दो दिन से कुछ बनी थी सो फिर शब बिगड़ गई
दो दिन से कुछ बनी थी सो फिर शब बिगड़ गई
یہ غزل ایک ایسے رشتے یا حالت کے ٹوٹنے کا دکھ بیان کرتی ہے جو کچھ وقت تک اچھا چل رہا تھا۔ شاعر کو محسوس ہوتا ہے کہ عشق اور زندگی کی مسرت اچانک بگڑ گئی ہے، جس سے مایوسی اور اداسی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ نظم وقت کے ساتھ بگڑتے ہوئے رشتوں اور امیدوں کے ٹوٹنے پر مرکوز ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दो दिन से कुछ बनी थी सो फिर शब बिगड़ गई
सोहबत हमारी यार से बेढब बिगड़ गई
دو دن سے جو کچھ بن رہا تھا، وہ پھر شب میں بگڑ گیا؛ میرے محبوب کے ساتھ ہماری صحبت بے ڈھب ہو کر بگڑ گئی۔
2
वाशुद कुछ आगे आह सी होती थी दिल के तईं
इक़्लीम-ए-आशिक़ी की हवा अब बिगड़ गई
اشعار کا مطلب ہے کہ دل سے نکلنے والی آہیں، جو پہلے ایک خاص انداز کی ہوتی تھیں، وہ اب نہیں ہیں۔ عشق کا ماحول یا میٹھی بات چیت اب بدل گئی ہے۔
3
गर्मी ने दिल की हिज्र में उस के जला दिया
शायद कि एहतियात से ये तब बिगड़ गई
گرمی نے دل کی ہجر میں اسے جلا دیا، شاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی۔
4
ख़त ने निकल के नक़्श दिलों के उठा दिए
सूरत बुतों की अच्छी जो थी सब बिगड़ गई
خط کے نکل جانے سے دلوں کے نقشے اڑ گئے؛ جو صورت بتوں کی اچھی تھی سب خراب ہو گئی۔
5
बाहम सुलूक था तो उठाते थे नर्म गर्म
काहे को 'मीर' कोई दबे जब बिगड़ गई
اگر سلوک نرم و گرم ہوتا تو 'میر' کو اسے ٹوٹی ہوئی اور اونچی حالت میں کیوں دیکھنا پڑا؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
