واشد کچھ آگے آہ سی ہوتی تھی دل کے تئیں
اقلیم عاشقی کی ہوا اب بگڑ گئی
“The heart used to sigh softly, like a breath of Vashud, / But the atmosphere of love has now gone astray.”
— میر تقی میر
معنی
اشعار کا مطلب ہے کہ دل سے نکلنے والی آہیں، جو پہلے ایک خاص انداز کی ہوتی تھیں، وہ اب نہیں ہیں۔ عشق کا ماحول یا میٹھی بات چیت اب بدل گئی ہے۔
تشریح
یہ شعر محبت کے اس سادگی کے زوال کو بیان کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کبھی دل کی آہیں خود بخود نکلتی تھیں، مگر اب عشق کا ماحول ہی بدل گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
