दो दिन से कुछ बनी थी सो फिर शब बिगड़ गई
सोहबत हमारी यार से बेढब बिगड़ गई
“The things that were formed over two days, are now spoiled again; / Our companionship with the beloved has become ruined and unstable.”
— میر تقی میر
معنی
دو دن سے جو کچھ بن رہا تھا، وہ پھر شب میں بگڑ گیا؛ میرے محبوب کے ساتھ ہماری صحبت بے ڈھب ہو کر بگڑ گئی۔
تشریح
یہ شعر زندگی کی بے ثباتی اور خوشیوں کے اچانک ٹوٹنے کا بیان ہے۔ شاعر نے کہا ہے کہ دو دن کی جو بنائی ہوئی سی خوشی تھی، وہ رات بھر میں کیسے بکھر گئی۔ یہ محبوب کی صحبت کا بکھر جانا، دل کے زخم کی عکاسی کرتا ہے۔
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
1 / 5Next →
