غزل
ढब हैं तेरे से बाग़ में गुल के
ढब हैं तेरे से बाग़ में गुल के
تیرے ہونے سے باغ میں گل کھلا ہے، تیرے عشق نے دماغ میں بھی رونق بھر دی ہے۔ یہ عشق ایک بیماری جیسا ہے جو دل کو تسلی نہیں دیتا، اور اس محفل کے نشے پر نہ جا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ढब हैं तेरे से बाग़ में गुल के
बू गई कुछ दिमाग़ में गुल के
کیا باغ تیرے ہونے سے کھلا ہے، یا تو نے صرف ذہن میں کھلایا ہے؟
2
जा-ए-रोग़न दिया करे है इश्क़
ख़ून-ए-बुलबुल चराग़ में गुल के
عشق نے بیماری کا تیل دیا ہے، اور پھول کے چراغ میں بلبل کا خون۔
3
दिल तसल्ली नहीं सबा वर्ना
जल्वे सब हैंगे दाग़ में गुल के
دل کو تسلی نہیں صبح سے، ورنہ جلوی سب ہیں گے داغ میں گل کے
4
इस हदीक़े के ऐश पर मत जा
मय नहीं है अयाग़ में गुल के
اس حدیقے کی نشاط پر مت بہک، کیونکہ پھول کی خوشبو وادی میں نہیں ہے۔
5
सैर कर 'मीर' इस चमन की शिताब
है ख़िज़ाँ भी सुराग़ में गुल के
اشعار کا مطلب ہے کہ باغ کی ٹھنڈک میں گھومنے کے بعد، خزاں بھی اپنے پھولوں میں کوئی راز چھپائے ہوئے ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
