غزل

ढब हैं तेरे से बाग़ में गुल के

ढब हैं तेरे से बाग़ में गुल के
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

تیرے ہونے سے باغ میں گل کھلا ہے، تیرے عشق نے دماغ میں بھی رونق بھر دی ہے۔ یہ عشق ایک بیماری جیسا ہے جو دل کو تسلی نہیں دیتا، اور اس محفل کے نشے پر نہ جا۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ढब हैं तेरे से बाग़ में गुल के बू गई कुछ दिमाग़ में गुल के
ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے بو گئی کچھ دماغ میں گل کے
کیا باغ تیرے ہونے سے کھلا ہے، یا تو نے صرف ذہن میں کھلایا ہے؟
2
जा-ए-रोग़न दिया करे है इश्क़ ख़ून-ए-बुलबुल चराग़ में गुल के
جائے روغن دیا کرے ہے عشق خون بلبل چراغ میں گل کے
عشق نے بیماری کا تیل دیا ہے، اور پھول کے چراغ میں بلبل کا خون۔
3
दिल तसल्ली नहीं सबा वर्ना जल्वे सब हैंगे दाग़ में गुल के
دل تسلی نہیں صبا ورنہ جلوے سب ہیں گے داغ میں گل کے
دل کو تسلی نہیں صبح سے، ورنہ جلوی سب ہیں گے داغ میں گل کے
4
इस हदीक़े के ऐश पर मत जा मय नहीं है अयाग़ में गुल के
اس حدیقے کے عیش پر مت جا مے نہیں ہے ایاغ میں گل کے
اس حدیقے کی نشاط پر مت بہک، کیونکہ پھول کی خوشبو وادی میں نہیں ہے۔
5
सैर कर 'मीर' इस चमन की शिताब है ख़िज़ाँ भी सुराग़ में गुल के
سیر کر میرؔ اس چمن کی شتاب ہے خزاں بھی سراغ میں گل کے
اشعار کا مطلب ہے کہ باغ کی ٹھنڈک میں گھومنے کے بعد، خزاں بھی اپنے پھولوں میں کوئی راز چھپائے ہوئے ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.