غزل

चलते हो तो चमन को चलिए कहते हैं कि बहाराँ है

चलते हो तो चमन को चलिए कहते हैं कि बहाराँ है
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل محبوب کے ساتھ زندگی کی خوبصورتی اور رنگینی کا جشن مناتی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ آپ کے ساتھ چلنے سے باغ (چمن) بھی بہاراں لگتا ہے۔ یہ محبت کے نشہ آور، رنگین، اور کبھی کبھی دردناک تجربے کی عکاسی کرتی ہے، جس میں زندگی کے سفر کا مے خانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
चलते हो तो चमन को चलिए कहते हैं कि बहाराँ है पात हरे हैं फूल खिले हैं कम-कम बाद-ओ-बाराँ है
چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
جب تم چلتے ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ باغ بہار ہے، کہ یہ پھولوں کا سیلاب ہے۔ پتے سبز ہیں اور پھول کھلے ہیں، مگر ہوا کی لہر بہت ہلکی ہے۔
2
रंग हवा से यूँ टपके है जैसे शराब चुवाते हैं आगे हो मय-ख़ाने के निकलो अहद-ए-बादा-गुसाराँ है
رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہے جیسے شراب چواتے ہیں آگے ہو مے خانے کے نکلو عہد بادہ گساراں ہے
رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہیں جیسے شراب چuates ہیں؛ اب مے خانے میں نکلو، کیونکہ عہدِ بادہ گُساران ہے।
3
इश्क़ के मैदाँ-दारों में भी मरने का है वस्फ़ बहुत या'नी मुसीबत ऐसी उठाना कार-ए-कार-गुज़ाराँ है
عشق کے میداں داروں میں بھی مرنے کا ہے وصف بہت یعنی مصیبت ایسی اٹھانا کار کار گزاراں ہے
عشق کے میدان داروں میں بھی مرنے کا وصف بہت ہے۔ یا یعنی، روزی کمانا بہت بڑی مصیبت ہے۔
4
दिल है दाग़ जिगर है टुकड़े आँसू सारे ख़ून हुए लोहू पानी एक करे ये इश्क़-ए-लाला-अज़ाराँ है
دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے آنسو سارے خون ہوئے لوہو پانی ایک کرے یہ عشق لالہ عذاراں ہے
میرا دل داغ ہے، میرا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، اور سارے آنسو خون ہو گئے ہیں؛ یہ محبوب کے لیے کیا گیا عشق خون اور پانی کا ایک امتزاج ہے۔
5
कोहकन ओ मजनूँ की ख़ातिर दश्त-ओ-कोह में हम न गए इश्क़ में हम को 'मीर' निहायत पास-ए-इज़्ज़त-दाराँ है
کوہ کن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئے عشق میں ہم کو میرؔ نہایت پاس عزت داراں ہے
کوہکن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئے عشق میں ہم کو 'میر' نہایت پاسے عزت داراں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.