غزل
चलते हो तो चमन को चलिए कहते हैं कि बहाराँ है
चलते हो तो चमन को चलिए कहते हैं कि बहाराँ है
یہ غزل محبوب کے ساتھ زندگی کی خوبصورتی اور رنگینی کا جشن مناتی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ آپ کے ساتھ چلنے سے باغ (چمن) بھی بہاراں لگتا ہے۔ یہ محبت کے نشہ آور، رنگین، اور کبھی کبھی دردناک تجربے کی عکاسی کرتی ہے، جس میں زندگی کے سفر کا مے خانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
चलते हो तो चमन को चलिए कहते हैं कि बहाराँ है
पात हरे हैं फूल खिले हैं कम-कम बाद-ओ-बाराँ है
جب تم چلتے ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ باغ بہار ہے، کہ یہ پھولوں کا سیلاب ہے۔ پتے سبز ہیں اور پھول کھلے ہیں، مگر ہوا کی لہر بہت ہلکی ہے۔
2
रंग हवा से यूँ टपके है जैसे शराब चुवाते हैं
आगे हो मय-ख़ाने के निकलो अहद-ए-बादा-गुसाराँ है
رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہیں جیسے شراب چuates ہیں؛ اب مے خانے میں نکلو، کیونکہ عہدِ بادہ گُساران ہے।
3
इश्क़ के मैदाँ-दारों में भी मरने का है वस्फ़ बहुत
या'नी मुसीबत ऐसी उठाना कार-ए-कार-गुज़ाराँ है
عشق کے میدان داروں میں بھی مرنے کا وصف بہت ہے۔ یا یعنی، روزی کمانا بہت بڑی مصیبت ہے۔
4
दिल है दाग़ जिगर है टुकड़े आँसू सारे ख़ून हुए
लोहू पानी एक करे ये इश्क़-ए-लाला-अज़ाराँ है
میرا دل داغ ہے، میرا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، اور سارے آنسو خون ہو گئے ہیں؛ یہ محبوب کے لیے کیا گیا عشق خون اور پانی کا ایک امتزاج ہے۔
5
कोहकन ओ मजनूँ की ख़ातिर दश्त-ओ-कोह में हम न गए
इश्क़ में हम को 'मीर' निहायत पास-ए-इज़्ज़त-दाराँ है
کوہکن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئے
عشق میں ہم کو 'میر' نہایت پاسے عزت داراں ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
