غزل
बनी थी कुछ इक उस से मुद्दत के बाद
बनी थी कुछ इक उस से मुद्दत के बाद
یہ غزل جدائی اور وقت کے ساتھ خراب ہوتے رشتوں کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہر چیز ایک طویل مدت کے بعد بھی کیسے بگڑ جاتی ہے، اور صرف یادوں پر جینا کتنا مشکل ہے۔ یہ غزل بے وفائی اور اچانک تنہائی کے گہرے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
बनी थी कुछ इक उस से मुद्दत के बाद
सो फिर बिगड़ी पहली ही सोहबत के बाद
بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد
کچھ اس سے کافی وقت گزرنے کے بعد بن گئی تھی، مگر پہلی ہی صحبت کے بعد یہ خراب ہو گئی۔
2
जुदाई के हालात मैं क्या कहूँ
क़यामत थी एक एक साअत के बाद
جدائی کے حالات میں کیا کہوں
قیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد
جُدائی کے حالات میں کیا کہوں، قیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد۔ (معنی: میں جدائی کے حالات کا بیان کیسے کروں؟ ہر ایک گھنٹہ قیامت جیسا تھا۔)
3
मुआ कोहकन बे-सुतूँ खोद कर
ये राहत हुई ऐसी मेहनत के बाद
موا کوہ کن بے ستوں کھود کر
یہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد
مٹی کے گھڑے کا منہ کھودنے کے بعد، اتنی راحت ملی، اتنی محنت کے بعد۔
4
लगा आग पानी को दौड़े है तू
ये गर्मी तिरी इस शरारत के बाद
لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تو
یہ گرمی تری اس شرارت کے بعد
تُو نے پانی میں آگ لگائی اور بھاگا ہے۔ یہ گرمی تیری شرارت کے بعد ہے۔
5
कहे को हमारे कब उन ने सुना
कोई बात मानी सो मिन्नत के बाद
کہے کو ہمارے کب ان نے سنا
کوئی بات مانی سو منت کے بعد
کہے کو ہمارے کب اُن نے سنا کوئی بات مانی سو منّت کے بعد
6
सुख़न की न तकलीफ़ हम से करो
लहू टपके है अब शिकायत के बाद
سخن کی نہ تکلیف ہم سے کرو
لہو ٹپکے ہے اب شکایت کے بعد
شاعِر سے کہتے ہیں کہ اب الفاظ کا درد نہ دیں، کیونکہ شکایت کرنے کے بعد خون ٹپک چکا ہے۔
7
नज़र 'मीर' ने कैसी हसरत से की
बहुत रोए हम उस की रुख़्सत के बाद
نظر میرؔ نے کیسی حسرت سے کی
بہت روئے ہم اس کی رخصت کے بعد
میر کی نظر میں کیسی چاہت تھی، کہ ان کے جانے کے بعد ہم بہت روئے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
