Sukhan AI
غزل

बनी थी कुछ इक उस से मुद्दत के बाद

बनी थी कुछ इक उस से मुद्दत के बाद
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل جدائی اور وقت کے ساتھ خراب ہوتے رشتوں کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہر چیز ایک طویل مدت کے بعد بھی کیسے بگڑ جاتی ہے، اور صرف یادوں پر جینا کتنا مشکل ہے۔ یہ غزل بے وفائی اور اچانک تنہائی کے گہرے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बनी थी कुछ इक उस से मुद्दत के बाद सो फिर बिगड़ी पहली ही सोहबत के बाद
کچھ اس سے کافی وقت گزرنے کے بعد بن گئی تھی، مگر پہلی ہی صحبت کے بعد یہ خراب ہو گئی۔
2
जुदाई के हालात मैं क्या कहूँ क़यामत थी एक एक साअत के बाद
جُدائی کے حالات میں کیا کہوں، قیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد۔ (معنی: میں جدائی کے حالات کا بیان کیسے کروں؟ ہر ایک گھنٹہ قیامت جیسا تھا۔)
3
मुआ कोहकन बे-सुतूँ खोद कर ये राहत हुई ऐसी मेहनत के बाद
مٹی کے گھڑے کا منہ کھودنے کے بعد، اتنی راحت ملی، اتنی محنت کے بعد۔
4
लगा आग पानी को दौड़े है तू ये गर्मी तिरी इस शरारत के बाद
تُو نے پانی میں آگ لگائی اور بھاگا ہے۔ یہ گرمی تیری شرارت کے بعد ہے۔
6
सुख़न की न तकलीफ़ हम से करो लहू टपके है अब शिकायत के बाद
شاعِر سے کہتے ہیں کہ اب الفاظ کا درد نہ دیں، کیونکہ شکایت کرنے کے بعد خون ٹپک چکا ہے۔
7
नज़र 'मीर' ने कैसी हसरत से की बहुत रोए हम उस की रुख़्सत के बाद
میر کی نظر میں کیسی چاہت تھی، کہ ان کے جانے کے بعد ہم بہت روئے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

बनी थी कुछ इक उस से मुद्दत के बाद | Sukhan AI