Sukhan AI
غزل

अब नहीं सीने में मेरे जा-ए-दाग़

अब नहीं सीने में मेरे जा-ए-दाग़
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل عشق کی آگ اور اس کے نشانات (داغ) کے موضوع پر ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب ان کے سینے میں وہ داغ نہیں جو پہلے تھے، کیونکہ عشق نے انہیں جلا دیا ہے۔ یہ غزل عشق کی اذیت، تڑپ اور اس کے گہرے اثرات کا خوبصورت بیان ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
दिल जिगर जल कर हुए हैं दोनों एक दरमियाँ आया है जब से पा-ए-दाग़
میرے دل اور جگر دونوں جل کر ایک ہو گئے ہیں، جب سے آپ کے داغ لگے قدم میرے پاس آئے ہیں۔
4
मुन्फ़इल हैं लाला ओ शम्अ' ओ चराग़ हम ने भी क्या आशिक़ी में खाए दाग़
اے لالا، اے شمع اور اے چراغ، تم تو عشق کی نعمت کے مستحق ہو؛ ہم نے بھی عشق کے نشے میں داغ کھائے ہیں۔
5
वो नहीं अब 'मीर' जो छाती जले खा गया सारे जिगर को हाए दाग़
وہ نہیں اب 'میر' جو چھاتی جلے، کھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

अब नहीं सीने में मेरे जा-ए-दाग़ | Sukhan AI