غزل
अब नहीं सीने में मेरे जा-ए-दाग़
अब नहीं सीने में मेरे जा-ए-दाग़
یہ غزل عشق کی آگ اور اس کے نشانات (داغ) کے موضوع پر ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب ان کے سینے میں وہ داغ نہیں جو پہلے تھے، کیونکہ عشق نے انہیں جلا دیا ہے۔ یہ غزل عشق کی اذیت، تڑپ اور اس کے گہرے اثرات کا خوبصورت بیان ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अब नहीं सीने में मेरे जा-ए-दाग़
सोज़-ए-दिल से दाग़ है बाला-ए-दाग़
اب نہیں سینے میں میرے جا کے داغ، سوزِ دل سے داغ ہے بالاے داغ۔
2
दिल जला आँखें जलीं जी जल गया
इश्क़ ने क्या क्या हमें दिखलाए दाग़
دل جل گیا اور آنکھیں جل گئیں؛ عشق نے ہمیں کیا کیا داغ دکھائے۔
3
दिल जिगर जल कर हुए हैं दोनों एक
दरमियाँ आया है जब से पा-ए-दाग़
میرے دل اور جگر دونوں جل کر ایک ہو گئے ہیں، جب سے آپ کے داغ لگے قدم میرے پاس آئے ہیں۔
4
मुन्फ़इल हैं लाला ओ शम्अ' ओ चराग़
हम ने भी क्या आशिक़ी में खाए दाग़
اے لالا، اے شمع اور اے چراغ، تم تو عشق کی نعمت کے مستحق ہو؛ ہم نے بھی عشق کے نشے میں داغ کھائے ہیں۔
5
वो नहीं अब 'मीर' जो छाती जले
खा गया सारे जिगर को हाए दाग़
وہ نہیں اب 'میر' جو چھاتی جلے، کھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
