غزل
مولا کب ملو گے
مولا کب ملو گے
یہ غزل خدا کے فراق میں ایک عقیدت مند کی شدید محبت اور اذیت کو بیان کرتی ہے۔ عقیدت مند بے چین ہے، اسے کھانا اور نیند نہیں بھاتی، اور وہ ایک زخمی روح کی طرح تڑپ رہا ہے، اپنے رب کے دیدار کی شدید خواہش میں ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
प्रभु जी तुम दर्शन बिन मोय घड़ी चैन नहीं आवड़े।।टेक।।
اے میرے رب، تیرے دیدار کے بغیر مجھے ایک لمحہ بھی چین نہیں آتا۔
2
अन्न नहीं भावे नींद न आवे विरह सतावे मोय।
مجھے کھانا اچھا نہیں لگتا، نیند نہیں آتی اور جدائی مجھے ستا رہی ہے۔
3
घायल ज्यूं घूमूं खड़ी रे म्हारो दर्द न जाने कोय।।1।।
میں ایک زخمی شخص کی طرح کھڑی گھومتی ہوں، اور میرا درد کوئی نہیں جانتا۔
5
प्राण गंवाया झूरता रे, नैन गंवाया दोनु रोय।।2।।
میں نے اپنی زندگی غم کرتے ہوئے گنوا دی، اور مسلسل روتے رہنے سے میری دونوں آنکھیں بھی ضائع ہو گئیں۔
6
जो मैं ऐसा जानती रे, प्रीत कियाँ दुख होय।
اگر مجھے یہ پہلے سے معلوم ہوتا کہ محبت کرنے سے دکھ ہی ملتا ہے، تو میں کبھی محبت نہ کرتی۔
7
नगर ढुंढेरौ पीटती रे, प्रीत न करियो कोय।।3।।
کوئی شہر شہر ڈھول پیٹ کر یہ پیغام دے رہا ہے کہ کسی کو بھی محبت نہیں کرنی چاہیے۔
8
पन्थ निहारूँ डगर भुवारूँ, ऊभी मारग जोय।
میں راستے کو دیکھتی ہوں اور اُسے صاف کرتی ہوں۔ کھڑی ہو کر میں سڑک پر ان کا انتظار کرتی ہوں۔
9
मीरा के प्रभु कब रे मिलोगे, तुम मिलयां सुख होय।।4।।
اے میرا کے پربھو، آپ مجھے کب ملو گے؟ آپ سے ملنے پر ہی مجھے سکھ (خوشی) حاصل ہوگی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
