غزل

جب اپنے پاس وہ آرامِ جاں نہیں ہوتا

جب اپنے پاس وہ آرامِ جاں نہیں ہوتا

یہ غزل محبوب کی جدائی میں ہونے والی جگر سوز تڑپ اور دل و جاں میں پھیلے ہوئے بے پایاں درد کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں عاشق کی فریاد اور التجا کے مقابلے محبوب کی بے نیازی، سرد مہری اور شوخی کی دلکش عکاسی کی گئی ہے۔

Source: Kashkol-e-Majzoob · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
جب اپنے پاس وہ آرامِ جاں نہیں ہوتا تو دردِ دل میں، جگر میں کہاں نہیں ہوتا؟
جب جان کو سکون بخشنے والا محبوب پاس نہیں ہوتا، تو دل اور جگر میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہوتی جہاں درد نہ اٹھتا ہو۔
2
کہا جو میں نے کرم مہرباں نہیں ہوتا کہا بگڑ کے اجارہ ہے ہاں نہیں ہوتا
جب میں نے کہا کہ آپ کی مجھ پر مہربانی نہیں ہوتی، تو انہوں نے بگڑ کر کہا کہ کیا تم نے کوئی اجارہ لے رکھا ہے؟ ہاں، نہیں ہوتی!
3
کبھی وہ ہو کے خفا مہربان نہیں ہوتا ترے بنائے کچھ اب اے فغاں نہیں ہوتا
محبوب ایک بار خفا ہو جائے تو پھر کبھی مہربان نہیں ہوتا، اس لیے اے میری فریاد! اب تیرے کچھ کرنے سے بھی بات نہیں بنتی۔
4
گنوا رہا ہے عجب شیخ عُمر خلوت میں شریکِ حلقہ پیرِ مغاں نہیں ہوتا
شیخ بڑی عجیب بات ہے کہ تنہائی میں اپنی عمر ضائع کر رہا ہے اور پیرِ مغاں کی محفل میں شریک نہیں ہوتا۔
5
بھرو فضول نہ دم عاشقی کا تم اے دل جو ضبط آہ بھی تم سے عیاں نہیں ہوتا
6
شبِ وصال سحر شام ہی سے رٹتے ہیں یہ آج کیا ہے کہ وقتِ اذاں نہیں ہوتا
7
کہیں بھی راہ میں منزل سے پہلے دم لینا شعارِ توسنِ عُمرِ رواں نہیں ہوتا
8
غم ان کا اس لئے مرغوب ہے مجھے ناصح کہ ان کے غم میں غمِ ایں و آں نہیں ہوتا
9
سکون ہو گا میسر اگر تو زیرِ زمیں قرارِ دل کو تہِ آسماں نہیں ہوتا
10
جو عشق کے لئے لازم ہے امتحاں دینا تو روز بھی یوں امتحاں نہیں ہوتا
11
بڑی ہے قدر تری سالکوں میں اے مجذوبؔ نہ ہو زمانہ اگر قدر داں نہیں ہوتا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.