“Once turned away in anger, they never show grace again; nothing is mended now by your pleading, O lament of mine!”
محبوب ایک بار خفا ہو جائے تو پھر کبھی مہربان نہیں ہوتا، اس لیے اے میری فریاد! اب تیرے کچھ کرنے سے بھی بات نہیں بنتی۔
اس شعر میں محبوب کی بے رخی اور عاشق کی بے بسی کی دردناک تصویر کشی کی گئی ہے۔ شاعر اپنی ہی آہ و پکار (فغاں) سے مایوس ہو کر کہہ رہا ہے کہ اب تیرے گڑگڑانے سے کچھ نہیں سنورے گا، کیونکہ وہ سنگدل اگر ایک بار روٹھ جائے تو دوبارہ کبھی کرم فرما نہیں ہوتا۔ یہ اس اداس موڑ کا بیان ہے جہاں محبت کی تمام التجائیں اور تڑپ لاحاصل ثابت ہوتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
