“When that solace of my soul is not by my side, where in the heart, where in the spirit, does the ache not reside?”
جب جان کو سکون بخشنے والا محبوب پاس نہیں ہوتا، تو دل اور جگر میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہوتی جہاں درد نہ اٹھتا ہو۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کو 'آرامِ جاں' یعنی روح کا چین قرار دیا ہے۔ جب وہ سکون بخشنے والی ہستی پاس نہیں ہوتی تو ہجر کی تڑپ کسی ایک مقام تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دل و جگر کے کونے کونے میں سما جاتی ہے۔ یہ سوالیہ انداز دراصل یہ بتاتا ہے کہ محبوب کی دوری عاشق کے پورے وجود کو ایک ہمہ گیر درد میں مبتلا کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
