غزل
آساڑھی شام
آساڑھی شام
غزل "آشاڑھی سانجھ" ایک پررونق مون سون شام کی وِشَد عکاسی کرتی ہے۔ یہ گرجتے بادلوں، رقص کرتے موروں کی پکار اور چرواہوں کی سریلی بانسری کی آواز کو بیان کرتی ہے جو گوپیوں کو جگاتی ہے۔ یہ غزل بارش کے باغات میں زندگی اور خوشی لانے کا خوبصورت بیان کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
આષાઢી સાંજનાં અંબર ગાજે
અંબર ગાજે, મેઘાડંબર ગાજે! -આષાઢી.
آشاڑھ کی شام کا آسمان گرجتا ہے، آسمان گرجتا ہے، گرجتے بادل گرجتے ہیں۔
2
માતેલા મોરલાના ટૌકા બોલે
ટૌકા બોલે, ધીરી ઢેલડ ડોલે. -આષાઢી.
مست موروں کی آوازیں گونجتی ہیں، آوازیں گونجتی ہیں، آہستہ آہستہ مورنی ڈولتی ہے۔
3
ગરવા ગોવાળિયાના પાવા વાગે
પાવા વાગે, સૂતી ગોપી જાગે. -આષાઢી.
پیارے گوالے کی بانسری بجتی ہے۔ بانسری بجنے سے سوئی ہوئی گوپی جاگ اٹھتی ہے۔
4
વીરાની વાડીઓમાં અમૃત રેલે,
અમૃત રેલે, ભાભી ઝરમર ઝીલે. -આષાઢી.
بھائی کے باغوں میں امرت بہتا ہے۔ بھابھی آہستہ آہستہ ان پھواروں کو سمیٹتی ہیں۔
5
ભાભીની રાતીચોળ ચૂંદડ ભીંજે,
ચૂંદડ ભીંજે, ખોળે બેટો રીઝે. -આષાઢી.
بھابھی کی گہرے سرخ رنگ کی چنر بھیگ جاتی ہے، اور جیسے ہی چنر بھیگتی ہے، اس کی گود میں بیٹھا بیٹا خوش ہوتا ہے۔
6
આષાઢી સાંજનાં અંબર ગાજે
અંબર ગાજે મેઘાડંબર ગાજે! -આષાઢી.
آساڑھ کی شام کو آسمان گرجتا ہے۔ آسمان گرجتا ہے اور گھنے بادل بھی گرجتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
