غزل

ज़मिस्तानी हवा में गरचे थी शमशीर की तेज़ी

ज़मिस्तानी हवा में गरचे थी शमशीर की तेज़ी
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک تیز، جوش و خروش سے بھرے اور سماجی-سیاسی عدم استحکام کی کہانی بیان کرتی ہے، جس میں ذاتی مہارت اور معاشرتی نظام کی بدلتی نوعیت کا عکاس ہے۔ یہ محفل کی رونق سے لے کر زمانے کی بدلتی طاقتوں اور اقتدار کے بدلنے کے انداز پر سوال اٹھاتی ہے، اور آخر میں یہ کہا جاتا ہے کہ چاہے وہ جلالِ بادشاہی ہو یا جمہوری تماشا، سیاست سے الگ ہو کر بھی ایک لازوال سچ باقی رہتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ज़मिस्तानी हवा में गरचे थी शमशीर की तेज़ी न छूटे मुझ से लंदन में भी आदाब-ए-सहर-ख़ेज़ी
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی
زمینی ہوا میں شمشیر کی تیزی گونج رہی تھی، اور لندن میں بھی میرے آدابِ سحر خےزی کا مان نہ چھوٹے۔
2
कहीं सरमाया-ए-महफ़िल थी मेरी गर्म-गुफ़्तारी कहीं सब को परेशाँ कर गई मेरी कम-आमेज़ी
کہیں سرمایۂ محفل تھی میری گرم گفتاری کہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم آمیزی
کبھی سرمایۂ محفل تھی میری گرم گفتاری، کبھی سب کو پریشان کر گئی میری کم آمیزی۔
3
ज़माम-ए-कार अगर मज़दूर के हाथों में हो फिर क्या तरीक़-ए-कोहकन में भी वही हीले हैं परवेज़ी
اگر زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا / طریقہِ کوہکن میں بھی وہی ہیلے ہیں پرویزی
4
जलाल-ए-पादशाही हो कि जम्हूरी तमाशा हो जुदा हो दीं सियासत से तो रह जाती है चंगेज़ी
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
چاہے یہ سلطنت کی شان ہو یا جمہوری تماشا، اگر اسے سیاست سے الگ کیا جائے تو یہ چنگیز ہی رہتا ہے۔
5
सवाद-ए-रौमत-उल-कुबरा में दिल्ली याद आती है वही इबरत वही अज़्मत वही शान-ए-दिल-आवेज़ी
سواد رومۃ الکبرےٰ میں دلی یاد آتی ہے وہی عبرت وہی عظمت وہی شان دل آویزی
سَوَادِ-اے-رَوْمَتِ-الْکُبْرَا میں دِلْھی یاد آتی ہے؛ وہی ایبرت، وہی عظمت، وہی شانِ دِل‌آوِزی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.