غزل

ज़ाहिर की आँख से न तमाशा करे कोई

ज़ाहिर की आँख से न तमाशा करे कोई
علامہ اقبال· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ کسی کے اندرونی جذبات کا تماشہ نہیں کیا جا سکتا۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کی انتہا پر ہونا چاہیے اور صرف حسن کے عروج کو دیکھنا چاہیے، نہ کہ اسے محض تماشا سمجھنا۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ज़ाहिर की आँख से न तमाशा करे कोई हो देखना तो दीदा-ए-दिल वा करे कोई
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
زاہر کی آنکھ سے کوئی تماشا نہ کرے، ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی۔
2
मंसूर को हुआ लब-ए-गोया पयाम-ए-मौत अब क्या किसी के 'इश्क़ का दा'वा करे कोई
منصور کو ہوا لب گویا پیام موت اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی
منصور کو لبِ گویا سے پیغامِ موت ہوا ہے، اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی
3
हो दीद का जो शौक़ तो आँखों को बंद कर है देखना यही कि न देखा करे कोई
ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی
اگر تمہیں الوہیت کا شوق ہے تو اپنی آنکھیں بند کر لینا، کیونکہ صرف نہ دیکھ کر ہی کوئی واقعی دیکھ سکتا ہے۔
4
मैं इंतिहा-ए-'इश्क़ हूँ तू इंतिहा-ए-हुस्न देखे मुझे कि तुझ को तमाशा करे कोई
میں انتہائے عشق ہوں تو انتہائے حسن دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
میں انتہاِ عشق ہوں، تُو انتہاِ حُسن؛ اگر کوئی مجھے دیکھے گا، تو وہ تجھے ہی تماشا سمجھے گا۔
5
'उज़्र-आफ़रीन-ए-जुर्म-ए-मोहब्बत है हुस्न-ए-दोस्त महशर में 'उज़्र-ए-ताज़ा न पैदा करे कोई
عذر آفرین جرم محبت ہے حسن دوست محشر میں عذر تازہ نہ پیدا کرے کوئی
محبت کے جرم کا عذر دوست کی خوبصورتی ہے؛ محشر میں کوئی نیا عذر پیدا نہیں کر سکتا۔
6
छुपती नहीं है ये निगह-ए-शौक़ हमनशीं फिर और किस तरह उन्हें देखा करे कोई
چھپتی نہیں ہے یہ نگہ شوق ہم نشیں پھر اور کس طرح انہیں دیکھا کرے کوئی
یہ چاہت بھری نگاہ چھپ نہیں سکتی، تو پھر کوئی انہیں اور کس طرح دیکھ پائے گا۔
7
उड़ बैठे क्या समझ के भला तूर पर कलीम ताक़त हो दीद की तो तक़ाज़ा करे कोई
اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیم طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی
کیا سمجھ کے بیٹھے ہو گلاب کی خوشبو پر، اے کلیم؟ اگر دیکھنے کی طاقت دے دی جائے، تو کوئی اس کا مطالبہ کرے گا۔
8
नज़ारे को ये जुम्बिश-ए-मिज़्गाँ भी बार है नर्गिस की आँख से तुझे देखा करे कोई
نظارے کو یہ جنبش مژگاں بھی بار ہے نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی
نظارے کو یہ جنبشِ مِزغان بھی بار ہے، کوئی نرجس کی آنکھ سے تجھے دیکھ کرے۔
9
खिल जाएँ क्या मज़े हैं तमन्ना-ए-शौक़ में दो चार दिन जो मेरी तमन्ना करे कोई
کھل جائیں کیا مزے ہیں تمنائے شوق میں دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی
شوق کی تمنا میں کیا مزہ ہے، اگر کوئی بس دو چار دن کے لیے مجھے یاد کرے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.