غزل

तू ऐ असीर-ए-मकाँ ला-मकाँ से दूर नहीं

तू ऐ असीर-ए-मकाँ ला-मकाँ से दूर नहीं
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ جو شخص 'مکان لا مکان' کا قیدی ہے، وہ دراصل محبوب کی موجودگی سے کبھی دور نہیں ہو سکتا۔ ہر چیز، یہاں تک کہ مرغزارِ موت اور علم کا خلاصه بھی، محبوب کی یادوں اور قربت سے جڑا ہوا ہے۔ شاعر زور دیتا ہے کہ حقیقی وجود اور سمجھ محبوب سے جدا نہیں ہو سکتے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
तू ऐ असीर-ए-मकाँ ला-मकाँ से दूर नहीं वो जल्वा-गाह तिरे ख़ाक-दाँ से दूर नहीं
تو اے اسیر مکاں لا مکاں سے دور نہیں وہ جلوہ گاہ ترے خاکداں سے دور نہیں
اے قیدیِ مکاں، تو لا-مکان سے دور نہیں ہے؛ وہ جلوہ گاہ تیرے خاکدان سے دور نہیں ہے۔
2
वो मर्ग़-ज़ार कि बीम-ए-ख़िज़ाँ नहीं जिस में ग़मीं न हो कि तिरे आशियाँ से दूर नहीं
وہ مرغزار کہ بیم خزاں نہیں جس میں غمیں نہ ہو کہ ترے آشیاں سے دور نہیں
وہ مرغزار کہ بیمِ خزان نہیں جس میں / غم نہ ہو کہ تیرے آشیان سے دور نہیں۔
3
ये है ख़ुलासा-ए-इल्म-ए-क़लंदरी कि हयात ख़दंग-ए-जस्ता है लेकिन कमाँ से दूर नहीं
یہ ہے خلاصۂ علم قلندری کہ حیات خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں
یہ ہے خلاصهٔ علمِ قلندرؔی کہ حیات خَضنگِ زَستہ ہے لیکن کمان سے دور نہیں
4
फ़ज़ा तिरी मह ओ परवीं से है ज़रा आगे क़दम उठा ये मक़ाम आसमाँ से दूर नहीं
فضا تری مہ و پرویں سے ہے ذرا آگے قدم اٹھا یہ مقام آسماں سے دور نہیں
تیری محبوب کی خوشبو ہوا سے بس تھوڑی آگے ہے، / قدم اٹھایا ہے یہ، آسمان سے دور نہیں۔
5
कहे न राह-नुमा से कि छोड़ दे मुझ को ये बात राह-रव-ए-नुक्ता-दाँ से दूर नहीं
کہے نہ راہنما سے کہ چھوڑ دے مجھ کو یہ بات راہرو نکتہ داں سے دور نہیں
راہ-نما سے کہنا مت کہ مجھے چھوڑ دے؛ یہ بات نقطہ داں کی سرسراہٹ سے دور نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.