Sukhan AI
غزل

सितारों से आगे जहाँ और भी हैं

सितारों से आगे जहाँ और भी हैं
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل زندگی کی وسعت اور لاتعداد امکانات کا بیان ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ محبت کے امتحان کے علاوہ بھی زندگی میں بہت سے اور پہلو اور تجربات موجود ہیں۔ شاعر سننے والے کو قناعت نہ کرنے اور ہر چیز میں مزید امکانات تلاش کرنے کا پیغام دیتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
सितारों से आगे जहाँ और भी हैं अभी इश्क़ के इम्तिहाँ और भी हैं
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
2
तही ज़िंदगी से नहीं ये फ़ज़ाएँ यहाँ सैकड़ों कारवाँ और भी हैं
یہ ماحول صرف زندگی سے نہیں ہیں؛ یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں۔
3
क़नाअत न कर आलम-ए-रंग-ओ-बू पर चमन और भी आशियाँ और भी हैं
رنگ و بو کے عالم پر قناعت نہ کر، چمن اور بھی ہیں، آشیان اور بھی ہیں۔
5
तू शाहीं है परवाज़ है काम तेरा तिरे सामने आसमाँ और भी हैं
تُو شاہی ہے پرواز ہے کام تیرا، تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں।
6
इसी रोज़ ओ शब में उलझ कर न रह जा कि तेरे ज़मान ओ मकाँ और भी हैं
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا، کہ تیرے زمانے و مکان اور بھی ہیں
7
गए दिन कि तन्हा था मैं अंजुमन में यहाँ अब मिरे राज़-दाँ और भी हैं
وہ دن گئے کہ تنہا تھا میں انجمن میں، یہاں اب میرے راز-دان اور بھی ہیں
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.