غزل
सितारों से आगे जहाँ और भी हैं
सितारों से आगे जहाँ और भी हैं
یہ غزل زندگی کی وسعت اور لاتعداد امکانات کا بیان ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ محبت کے امتحان کے علاوہ بھی زندگی میں بہت سے اور پہلو اور تجربات موجود ہیں۔ شاعر سننے والے کو قناعت نہ کرنے اور ہر چیز میں مزید امکانات تلاش کرنے کا پیغام دیتا ہے۔
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
सितारों से आगे जहाँ और भी हैं
अभी इश्क़ के इम्तिहाँ और भी हैं
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
2
तही ज़िंदगी से नहीं ये फ़ज़ाएँ
यहाँ सैकड़ों कारवाँ और भी हैं
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
یہ ماحول صرف زندگی سے نہیں ہیں؛ یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں۔
3
क़नाअत न कर आलम-ए-रंग-ओ-बू पर
चमन और भी आशियाँ और भी हैं
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
رنگ و بو کے عالم پر قناعت نہ کر، چمن اور بھی ہیں، آشیان اور بھی ہیں۔
4
अगर खो गया इक नशेमन तो क्या ग़म
मक़ामात-ए-आह-ओ-फ़ुग़ाँ और भी हैं
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشہمن تو کیا غم / مَقاماتِ آه و فغاں اور بھی ہیں
5
तू शाहीं है परवाज़ है काम तेरा
तिरे सामने आसमाँ और भी हैं
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
تُو شاہی ہے پرواز ہے کام تیرا، تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں।
6
इसी रोज़ ओ शब में उलझ कर न रह जा
कि तेरे ज़मान ओ मकाँ और भी हैं
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا، کہ تیرے زمانے و مکان اور بھی ہیں
7
गए दिन कि तन्हा था मैं अंजुमन में
यहाँ अब मिरे राज़-दाँ और भी हैं
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
وہ دن گئے کہ تنہا تھا میں انجمن میں، یہاں اب میرے راز-دان اور بھی ہیں
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
