غزل
मुझे आह-ओ-फ़ुग़ान-ए-नीम-शब का फिर पयाम आया
मुझे आह-ओ-फ़ुग़ान-ए-नीम-शब का फिर पयाम आया
یہ غزل آدھی رات کے آہ و فغاں کے ایک پیغام کی بات کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کے عشق اور درد کے اشاروں کو محسوس کرتا ہے، اور زندگی کے مشکل لمحات میں اپنی تڑپ کا بیان کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ غزل وقت اور تقدیر میں آنے والی شدید جذباتی کشمکش کو پیش کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
मुझे आह-ओ-फ़ुग़ान-ए-नीम-शब का फिर पयाम आया
थम ऐ रह-रौ कि शायद फिर कोई मुश्किल मक़ाम आया
مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا
تھم اے رہ رو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا
مجھے آہ و فغاںِ نیم شب کا پھر پیغام آیا؛ تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا۔
2
ज़रा तक़दीर की गहराइयों में डूब जा तू भी
कि इस जंगाह से मैं बन के तेग़-ए-बे-नियाम आया
ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھی
کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام آیا
ذرا تقدیر کی गहराइयों میں ڈوب جا تو بھی، کہ اس جنگاں سے میں بن کے تیرِ بے نیام آیا۔ (معنی: تم بھی قسمت کی گہرائیوں میں اتر جاؤ، کیونکہ میں اس جنگ کے میدان سے ایک بے قرار भाले کی طرح آیا ہوں۔)
3
ये मिसरा लिख दिया किस शोख़ ने मेहराब-ए-मस्जिद पर
ये नादाँ गिर गए सज्दों में जब वक़्त-ए-क़याम आया
یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
یہ مصرع کس شیخی نے مسجد کے محراب پر لکھ دیا؟ جب وقٹِ قیام آیا، تو وہ ناداں سجدوں میں گر گئے۔
4
चल ऐ मेरी ग़रीबी का तमाशा देखने वाले
वो महफ़िल उठ गई जिस दम तो मुझ तक दौर-ए-जाम आया
چل اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والے
وہ محفل اٹھ گئی جس دم تو مجھ تک دور جام آیا
اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والے، وہ محفل اٹھ گئی جس دم مجھ تک دورِ جام آیا۔
5
दिया 'इक़बाल' ने हिन्दी मुसलमानों को सोज़ अपना
ये इक मर्द-ए-तन-आसाँ था तन-आसानों के काम आया
دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اک مرد تن آساں تھا تن آسانوں کے کام آیا
اقبال نے ہندی مسلمانوں کو اپنا غم دیا، یہ ایک ایسا مرد تھا جو جسمانی طور پر آسان تھا اور آسان جسم والوں کے کام آیا۔
6
उसी 'इक़बाल' की मैं जुस्तुजू करता रहा बरसों
बड़ी मुद्दत के बा'द आख़िर वो शाहीं ज़ेर-ए-दाम आया
اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا
میں برسوں تک اسی 'اقبال' کی جستجو کرتا رہا، اور بڑی مدت کے بعد آخر وہ چھت کے نیچے آیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
