Sukhan AI
غزل

मीर-ए-सिपाह ना-सज़ा लश्करियाँ शिकस्ता सफ़

मीर-ए-सिपाह ना-सज़ा लश्करियाँ शिकस्ता सफ़
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل جدائی، مایوسی، اور زندگی و محبت کی نوعیت پر گہرے غور و فکر کا اظہار ہے۔ شاعر زور دیتا ہے کہ عشق میں مرنے کا حوصلہ، بے عزت زندگی گزارنے سے کہیں بہتر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
तेरे मुहीत में कहीं गौहर-ए-ज़ि़ंदगी नहीं ढूँड चुका मैं मौज मौज देख चुका सदफ़ सदफ़
تمہارے آغوش میں کہیں زندگی کا موتی نہیں ہے، / میں ہر لہر اور ہر شِخ کو دیکھ کر ڈھونڈ چکا ہوں۔
5
सोहबत-ए-पीर-ए-रूम से मुझ पे हुआ ये राज़ फ़ाश लाख हकीम सर-ब-जेब एक कलीम सर-ब-कफ़
صاحبتِ پیرِ روم سے مجھ پر یہ راز فاش ہوا؛ لاکھ حکیم سر بہ جاب، ایک کلیم سر بہ کف।
6
मिस्ल-ए-कलीम हो अगर मारका आज़मा कोई अब भी दरख़्त-ए-तूर से आती है बाँग-ए-ला-तख़फ़
اگر کوئی کلیم کی طاقت کا آزمائش کرے گا، تو آج بھی دورِ تبر سے 'لا-تخف' کی آواز آتی ہے۔
7
ख़ीरा न कर सका मुझे जल्वा-ए-दानिश-ए-फ़रंग सुर्मा है मेरी आँख का ख़ाक-ए-मदीना-ओ-नजफ़
وہ غیری دانش کی چمک برداشت نہ کر سکا، میری آنکھوں میں مَدینہ اور نجف کی خاک کا سُمر ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

मीर-ए-सिपाह ना-सज़ा लश्करियाँ शिकस्ता सफ़ | Sukhan AI