غزل
ख़िरद-मंदों से क्या पूछूँ कि मेरी इब्तिदा क्या है
ख़िरद-मंदों से क्या पूछूँ कि मेरी इब्तिदा क्या है
یہ غزل زندگی کے گہرے اسرار اور وجود کے سوالات پر غور کرتی ہے۔ شاعر نے اپنے آغاز اور انجام کے بارے میں سوال کرنے سے انکار کیا ہے، کیونکہ یہ معاملات محض عقل سے ماوراء ہیں۔ اس کے بجائے، نظم گہرے خود-غور، خود-کشف، اور الہامی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتی ہے، یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اصل حقیقت دل کی جلن میں ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़िरद-मंदों से क्या पूछूँ कि मेरी इब्तिदा क्या है
कि मैं इस फ़िक्र में रहता हूँ मेरी इंतिहा क्या है
میں عقل مندوں سے اپنے آغاز کے بارے میں کیا پوچھوں، کیونکہ میں تو صرف اس خیال میں جیتا ہوں کہ میرا انجام کیا ہوگا۔
2
ख़ुदी को कर बुलंद इतना कि हर तक़दीर से पहले
ख़ुदा बंदे से ख़ुद पूछे बता तेरी रज़ा क्या है
اپنی خودی کو اتنا بلند کر کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا خود بندے سے پوچھے، 'بتا تیری رضا کیا ہے؟'
3
मक़ाम-ए-गुफ़्तुगू क्या है अगर मैं कीमिया-गर हूँ
यही सोज़-ए-नफ़स है और मेरी कीमिया क्या है
اگر میں کیمیا گر ہوں تو گفتگو کا مقام کیا ہے؟ کیا یہ نفس کا جلنا ہے، اور میری کیمیا کیا ہے؟
4
नज़र आईं मुझे तक़दीर की गहराइयाँ इस में
न पूछ ऐ हम-नशीं मुझ से वो चश्म-ए-सुर्मा-सा क्या है
اس میں مجھے تقدیر کی گہرائیاں نظر آئیں؛ مجھ سے نہ پوچھ کہ وہ چشمِ سمرہ سا کیا ہے۔
5
अगर होता वो 'मजज़ूब'-ए-फ़रंगी इस ज़माने में
तो 'इक़बाल' उस को समझाता मक़ाम-ए-किबरिया क्या है
اگر ہوتا وہ 'مجزوب-ے-فرنگی' اس زمانے میں، تو 'اقبال' اُسے مقامِ کبریٰ کیا ہے سمجھاتا۔
6
नवा-ए-सुब्ह-गाही ने जिगर ख़ूँ कर दिया मेरा
ख़ुदाया जिस ख़ता की ये सज़ा है वो ख़ता क्या है
نواۓ صبح گاہی نے جگر خون کر دیا میرا؛ خدایا کس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
