Sukhan AI
غزل

ख़िरद-मंदों से क्या पूछूँ कि मेरी इब्तिदा क्या है

ख़िरद-मंदों से क्या पूछूँ कि मेरी इब्तिदा क्या है
علامہ اقبال· Ghazal· 6 shers

یہ غزل زندگی کے گہرے اسرار اور وجود کے سوالات پر غور کرتی ہے۔ شاعر نے اپنے آغاز اور انجام کے بارے میں سوال کرنے سے انکار کیا ہے، کیونکہ یہ معاملات محض عقل سے ماوراء ہیں۔ اس کے بجائے، نظم گہرے خود-غور، خود-کشف، اور الہامی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتی ہے، یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اصل حقیقت دل کی جلن میں ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़िरद-मंदों से क्या पूछूँ कि मेरी इब्तिदा क्या है कि मैं इस फ़िक्र में रहता हूँ मेरी इंतिहा क्या है
میں عقل مندوں سے اپنے آغاز کے بارے میں کیا پوچھوں، کیونکہ میں تو صرف اس خیال میں جیتا ہوں کہ میرا انجام کیا ہوگا۔
2
ख़ुदी को कर बुलंद इतना कि हर तक़दीर से पहले ख़ुदा बंदे से ख़ुद पूछे बता तेरी रज़ा क्या है
اپنی خودی کو اتنا بلند کر کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا خود بندے سے پوچھے، 'بتا تیری رضا کیا ہے؟'
3
मक़ाम-ए-गुफ़्तुगू क्या है अगर मैं कीमिया-गर हूँ यही सोज़-ए-नफ़स है और मेरी कीमिया क्या है
اگر میں کیمیا گر ہوں تو گفتگو کا مقام کیا ہے؟ کیا یہ نفس کا جلنا ہے، اور میری کیمیا کیا ہے؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.