خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے — علامہ اقبال

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

“Elevate your self-esteem so high, that before every destiny, God Himself asks the servant, 'Tell me, what is your will?'”

— علامہ اقبال

معنی

اپنی خودی کو اتنا بلند کر کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا خود بندے سے پوچھے، 'بتا تیری رضا کیا ہے؟'

تشریح

یہ شعر 'خودی' کی اہمیت کا بیان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو اتنا بلندی پر پہنچا دو کہ تمہاری ذات ہی ایک مقام پا لے... جہاں ہر تقدیر سے پہلے خدا خود تم سے سوال کرے گا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.