خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے — علامہ اقبال
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
“What shall I ask the wise men of my beginning, For I live in thought of what my end shall be.”
— علامہ اقبال
معنی
میں عقل مندوں سے اپنے آغاز کے بارے میں کیا پوچھوں، کیونکہ میں تو صرف اس خیال میں جیتا ہوں کہ میرا انجام کیا ہوگا۔
تشریح
یہ شعر وجودی فلسفے کی گہرائیوں میں اترتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ عقل مندوں سے پوچھنا بھی مشکل ہے کہ ہمارا آغاز کیا تھا، کیونکہ ہمارا وجود تو صرف اپنی انتہا کے خیال میں گم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 6Next →
