नज़र आईं मुझे तक़दीर की गहराइयाँ इस में
न पूछ ऐ हम-नशीं मुझ से वो चश्म-ए-सुर्मा-सा क्या है
“In this, I saw the depths of destiny; do not ask me what those kohl-rimmed eyes are.”
— علامہ اقبال
معنی
اس میں مجھے تقدیر کی گہرائیاں نظر آئیں؛ مجھ سے نہ پوچھ کہ وہ چشمِ سمرہ سا کیا ہے۔
تشریح
یہ شعر تقدیر کے گہرے رازوں اور محبوب کی آنکھوں کے جادو کے درمیان ایک دلچسپ توازن قائم کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کی نظریں حسین ہیں، مگر حقیقت تو تقدیر کے اسرار میں چھپی ہے، جو پوچھنے लायक نہیں!
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
