Sukhan AI
غزل

ख़िरद के पास ख़बर के सिवा कुछ और नहीं

ख़िरद के पास ख़बर के सिवा कुछ और नहीं
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ زندگی میں کوئی بھی چیز مستقل یا مطلق نہیں ہوتی، جو وجود کی عارضی فطرت پر زور دیتی ہے۔ یہ اشارہ کرتی ہے کہ ہر مرحلے پر صرف ایک چیز ہی اصل اہمیت رکھتی ہے—چاہے وہ علم ہو، نظر ہو، یا سفر کا لطف ہو۔ نظم انسان کو فانی ہونے اور موجودہ لمحے کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
गिराँ-बहा है तो हिफ़्ज़-ए-ख़ुदी से है वर्ना गुहर में आब-ए-गुहर के सिवा कुछ और नहीं
اگر یہ گرنا خودی کی حفاظت سے ہے، ورنہ جواہر میں جواہر کے پانی کے سوا کچھ اور نہیں۔
7
बड़ा करीम है 'इक़बाल'-ए-बे-नवा लेकिन अता-ए-शोला शरर के सिवा कुछ और नहीं
اقبال کی شاعری کا کمال بہت بڑا ہے، لیکن شعلے اور چنگاری کے تحفے کے سوا کچھ اور نہیں دیا گیا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.