غزل
ख़िरद के पास ख़बर के सिवा कुछ और नहीं
ख़िरद के पास ख़बर के सिवा कुछ और नहीं
یہ غزل بتاتی ہے کہ زندگی میں کوئی بھی چیز مستقل یا مطلق نہیں ہوتی، جو وجود کی عارضی فطرت پر زور دیتی ہے۔ یہ اشارہ کرتی ہے کہ ہر مرحلے پر صرف ایک چیز ہی اصل اہمیت رکھتی ہے—چاہے وہ علم ہو، نظر ہو، یا سفر کا لطف ہو۔ نظم انسان کو فانی ہونے اور موجودہ لمحے کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़िरद के पास ख़बर के सिवा कुछ और नहीं
तिरा इलाज नज़र के सिवा कुछ और नहीं
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں، تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں۔
2
हर इक मक़ाम से आगे मक़ाम है तेरा
हयात ज़ौक़-ए-सफ़र के सिवा कुछ और नहीं
ہر اک مقام سے آگے مَقام ہے تیرا، حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
3
गिराँ-बहा है तो हिफ़्ज़-ए-ख़ुदी से है वर्ना
गुहर में आब-ए-गुहर के सिवा कुछ और नहीं
اگر یہ گرنا خودی کی حفاظت سے ہے، ورنہ جواہر میں جواہر کے پانی کے سوا کچھ اور نہیں۔
4
रगों में गर्दिश-ए-ख़ूँ है अगर तो क्या हासिल
हयात सोज़-ए-जिगर के सिवा कुछ और नहीं
اگر رگوں میں خون کا جوش ہے تو کیا حاصل؟ دل کی زندگی کی جلن کے سوا کچھ اور نہیں۔
5
उरूस-ए-लाला मुनासिब नहीं है मुझ से हिजाब
कि मैं नसीम-ए-सहर के सिवा कुछ और नहीं
لالے کا پردہ مجھ پر مناسب نہیں ہے؛ میں تو صبح کی نسیم کے سوا کچھ اور نہیں۔
6
जिसे कसाद समझते हैं ताजिरान-ए-फ़रंग
वो शय मता-ए-हुनर के सिवा कुछ और नहीं
جو چیز غیر ملکی تاجر تاج سمجھتے ہیں، وہ ہنر کی قدر کے سوا کچھ اور نہیں۔
7
बड़ा करीम है 'इक़बाल'-ए-बे-नवा लेकिन
अता-ए-शोला शरर के सिवा कुछ और नहीं
اقبال کی شاعری کا کمال بہت بڑا ہے، لیکن شعلے اور چنگاری کے تحفے کے سوا کچھ اور نہیں دیا گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
