غزل
करेंगे अहल-ए-नज़र ताज़ा बस्तियाँ आबाद
करेंगे अहल-ए-नज़र ताज़ा बस्तियाँ आबाद
یہ غزل نظروں کی تازگی اور روح کے احیاء کا بیان ہے۔ شاعر کا دعویٰ ہے کہ وہ اَهلِ نظر کو دوبارہ آباد کریں گے، جس کا مطلب ہے کہ وہ فن اور عشق کے ذریعے زندگی کو دوبارہ زندہ کریں گے۔ یہ نظم علم اور روایات کی حدود سے آگے بڑھ کر، دل کے سچے احساس اور تجربے کو اہمیت دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
करेंगे अहल-ए-नज़र ताज़ा बस्तियाँ आबाद
मिरी निगाह नहीं सू-ए-कूफ़ा-ओ-बग़दाद
ہم دیکھنے والوں کو تازگی سے بستیاں آباد کریں گے، میری نگاہ نہ تو کوفہ کی طرف ہے اور نہ ہی بغداد کی۔
2
ये मदरसा ये जवाँ ये सुरूर ओ रानाई
इन्हीं के दम से है मय-ख़ाना-ए-फ़रंग आबाद
یہ مدرسہ، یہ جوانی، یہ سرور اور یہ رنائی، انہی کی وجہ سے مے خانۂ فرنگ آباد ہے۔
3
न फ़लसफ़ी से न मुल्ला से है ग़रज़ मुझ को
ये दिल की मौत वो अंदेशा ओ नज़र का फ़साद
میرا مقصد نہ فلسفی سے ہے نہ مڈھا سے، یہ دل کی موت، وہ اندیشہ اور نظر کا فساد ہے۔
4
फ़क़ीह-ए-शहर की तहक़ीर क्या मजाल मिरी
मगर ये बात कि मैं ढूँडता हूँ दिल की कुशाद
शहर کے فقیہ کی تحقیر کیا مَجال میری، مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کُشاد۔
5
ख़रीद सकते हैं दुनिया में इशरत-ए-परवाज़
ख़ुदा की देन है सरमाया-ए-ग़म-ए-फ़रहाद
دُنیا میں پرواز کا مظاہرہ خریدا جا سکتا ہے، مگر فرہاد کے غم کا سرمایہ خدا کی عطا ہے۔
6
किए हैं फ़ाश रुमूज़-ए-क़लंदरी मैं ने
कि फ़िक्र-ए-मदरसा-ओ-ख़ानक़ाह हो आज़ाद
میں نے کَلندی کے رموزِ قَلندری فاش کیے ہیں، تاکہ مدرسہ و خانقاہ کا فکر آزاد ہو۔
7
ऋषी के फ़ाक़ों से टूटा न बरहमन का तिलिस्म
असा न हो तो कलीमी है कार-ए-बे-बुनियाद
رشی کی خالی آنکھوں سے برہمن کا جادو ٹوٹ گیا؛ اگر ایسا نہ ہو تو یہ جادو ہی بے بنیاد ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
