Sukhan AI
غزل

हर इक मक़ाम से आगे गुज़र गया मह-ए-नौ

हर इक मक़ाम से आगे गुज़र गया मह-ए-नौ
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ چاند (مہ-ئے-نو) ہر مقام سے آگے گزر گیا ہے، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کمال کس کو میسر ہوا۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر سانس کی طاقت سے وہ گنچہ کھلا بھی تو کیا، جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو، اسے کبھی مکمل نہیں ملے گا۔ آخر میں، وہ کہتا ہے کہ اگر تیری نگاہ پاک ہے تو دل بھی پاک ہے، جو دل کو حق نے نگاہ کا پردہ دیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
नफ़स के ज़ोर से वो ग़ुंचा वा हुआ भी तो क्या जिसे नसीब नहीं आफ़्ताब का परतव
ہوا کی طاقت سے وہ کلی کھل بھی جائے، تو کیا فائدہ، جسے سورج کے نصیب کا پردہ نہ ہو۔
3
निगाह पाक है तेरी तो पाक है दिल भी कि दिल को हक़ ने किया है निगाह का पैरव
اگر تیری نظر پاک ہے تو دل بھی پاک ہے، / کہ دل کو حق نے نظر کا قیدی بنایا ہے۔
4
पनप सका न ख़याबाँ में लाला-ए-दिल-सोज़ कि साज़गार नहीं ये जहान-ए-गंदुम-ओ-जौ
پَنپ سکا نہ خیابان میں لالاؔٔ-ئے-دِل-سوز کہ سازگار نہیں یہ جہاں-ئے-گندم و جو۔
5
रहे न 'ऐबक' ओ 'ग़ौरी' के मारके बाक़ी हमेशा ताज़ा ओ शीरीं है नग़्मा-ए-'ख़ुसरौ'
اے آبک او غوری، کے مار کے باقی نہیں رہتا، نغمۂ خسرُو ہمیشہ تازہ و شیریں ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.