نفس کے زور سے وہ غنچہ وا ہوا بھی تو کیا جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو

“Even if that bud unfurled with the force of breath, what good is it, To that which does not receive the cover of the sun's fate?”

— علامہ اقبال
معنی

ہوا کی طاقت سے وہ کلی کھل بھی جائے، تو کیا فائدہ، جسے سورج کے نصیب کا پردہ نہ ہو۔

تشریح

یہ شعر کوشش اور تقدیر کے فرق کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ صرف محنت سے جو پھول کھل جائے، اگر اس کا نصیب آفتاب کے پردے سے نہیں جڑا، تو وہ بے معنی ہے۔ کامیابی کے لیے صرف کوشش نہیں، بلکہ تقدیر کا साथ भी ज़रूरी ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.