غزل
हादसा वो जो अभी पर्दा-ए-अफ़्लाक में है
हादसा वो जो अभी पर्दा-ए-अफ़्लाक में है
یہ غزل اس غیر مرئی اور ابھی ہونے والے واقعے (ہادثے) پر بات کرتی ہے جو افلاک کے پردے میں چھپا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ محبوب کا عکس نہ تو ستاروں میں ہے اور نہ ہی افلاک کی گردش میں، بلکہ وہ عاشق کی بے باک آہ میں ہے۔ آخر میں، یہ کہتی ہے کہ محبوب کی خاک میں ابھی بھی ایک شعلہ زندہ ہے، جو صبح کی نئی صبح سے بھی زندہ ہو سکتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
हादसा वो जो अभी पर्दा-ए-अफ़्लाक में है
अक्स उस का मिरे आईना-ए-इदराक में है
حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے
وہ حادثہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے، اس کا عکس میرے آئینۂ ادراک میں ہے۔
2
न सितारे में है ने गर्दिश-ए-अफ़्लाक में है
तेरी तक़दीर मिरे नाला-ए-बेबाक में है
نہ ستارے میں ہے نے گردش افلاک میں ہے
تیری تقدیر مرے نالۂ بیباک میں ہے
نہ تیری تقدیر ستاروں میں ہے، نہ یہ گردشِ افلاک میں ہے۔ تیری تقدیر تو میرے بے باک نالہ میں ہے۔
3
या मिरी आह में ही कोई शरर ज़िंदा नहीं
या ज़रा नम अभी तेरे ख़स-ओ-ख़ाशाक में है
یا مری آہ میں ہی کوئی شرر زندہ نہیں
یا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے
میری اس آہ میں کوئی شرارت زندہ نہیں، مگر ابھی بھی تیرے خصر و خاشاک میں تھوڑا نم باقی ہے۔
4
क्या अजब मेरी नवा-हा-ए-सहर-गाही से
ज़िंदा हो जाए वो आतिश जो तिरी ख़ाक में है
کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش جو تری خاک میں ہے
کتنا عجیب ہے کہ صبح کی تازہ ہوا سے وہ آگ کیسے زندہ ہو جائے جو تمہاری خاک میں ہے؟
5
तोड़ डालेगी यही ख़ाक तिलिस्म-ए-शब-ओ-रोज़
गरचे उलझी हुई तक़दीर के पेचाक में है
توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسم شب و روز
گرچہ الجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں ہے
یہ دھول دن اور رات کے جادو کو توڑ دے گی، چاہے یہ تقدیر کے الجھے ہوئے گره میں ہی کیوں نہ ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
