Sukhan AI
غزل

हादसा वो जो अभी पर्दा-ए-अफ़्लाक में है

हादसा वो जो अभी पर्दा-ए-अफ़्लाक में है
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل اس غیر مرئی اور ابھی ہونے والے واقعے (ہادثے) پر بات کرتی ہے جو افلاک کے پردے میں چھپا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ محبوب کا عکس نہ تو ستاروں میں ہے اور نہ ہی افلاک کی گردش میں، بلکہ وہ عاشق کی بے باک آہ میں ہے۔ آخر میں، یہ کہتی ہے کہ محبوب کی خاک میں ابھی بھی ایک شعلہ زندہ ہے، جو صبح کی نئی صبح سے بھی زندہ ہو سکتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
न सितारे में है ने गर्दिश-ए-अफ़्लाक में है तेरी तक़दीर मिरे नाला-ए-बेबाक में है
نہ تیری تقدیر ستاروں میں ہے، نہ یہ گردشِ افلاک میں ہے۔ تیری تقدیر تو میرے بے باک نالہ میں ہے۔
3
या मिरी आह में ही कोई शरर ज़िंदा नहीं या ज़रा नम अभी तेरे ख़स-ओ-ख़ाशाक में है
میری اس آہ میں کوئی شرارت زندہ نہیں، مگر ابھی بھی تیرے خصر و خاشاک میں تھوڑا نم باقی ہے۔
4
क्या अजब मेरी नवा-हा-ए-सहर-गाही से ज़िंदा हो जाए वो आतिश जो तिरी ख़ाक में है
کتنا عجیب ہے کہ صبح کی تازہ ہوا سے وہ آگ کیسے زندہ ہو جائے جو تمہاری خاک میں ہے؟
5
तोड़ डालेगी यही ख़ाक तिलिस्म-ए-शब-ओ-रोज़ गरचे उलझी हुई तक़दीर के पेचाक में है
یہ دھول دن اور رات کے جادو کو توڑ دے گی، چاہے یہ تقدیر کے الجھے ہوئے گره میں ہی کیوں نہ ہو۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.