غزل
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
اس غزل میں شاعر انسان کو کائنات اور گلزارِ ہستی کو کسی اجنبی کی طرح نہیں بلکہ گہری بصیرت اور شعور کے ساتھ دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ساتھ ہی وہ انسانی زندگی کو ایک شرارے کی مانند ناپائیدار قرار دیتے ہوئے اس مختصر وجود کی حقیقت کو بروقت سمجھنے کا درس دیتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
गुलज़ार-ए-हस्त-ओ-बूद न बेगाना-वार देख
है देखने की चीज़ इसे बार बार देख
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
کائنات کے اس گلشن کو بیگانوں کی طرح مت دیکھو، یہ ایسی چیز ہے جو دیکھنے کے لائق ہے اس لیے اسے بار بار دیکھو۔
2
आया है तू जहाँ में मिसाल-ए-शरार देख
दम दे न जाए हस्ती-ना-पाएदार देख
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستیٔ نا پائیدار دیکھ
تم اس دنیا میں ایک چنگاری کی طرح آئے ہو اس لیے ہوشیار رہو، کہیں یہ ناپائیدار زندگی تمہیں دھوکا نہ دے جائے۔
3
माना कि तेरी दीद के क़ाबिल नहीं हूँ मैं
तू मेरा शौक़ देख मिरा इंतिज़ार देख
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں آپ کے دیدار کے قابل نہیں ہوں، لیکن آپ میری چاہت اور میرا انتظار تو دیکھیں۔
4
खोली हैं ज़ौक़-ए-दीद ने आँखें तिरी अगर
हर रहगुज़र में नक़्श-ए-कफ़-ए-पा-ए-यार देख
کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقش کف پائے یار دیکھ
اگر دیکھنے کے شوق نے تمہاری آنکھیں کھول دی ہیں، تو ہر راستے پر محبوب کے قدموں کے نشان دیکھو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
