“I grant that I am not worthy of your sight, yet behold my yearning, behold my enduring wait.”
میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں آپ کے دیدار کے قابل نہیں ہوں، لیکن آپ میری چاہت اور میرا انتظار تو دیکھیں۔
شاعر یہاں نہایت عاجزی سے اعتراف کرتا ہے کہ وہ شاید محبوب کے جلوے اور دید کے لائق نہیں، مگر محبت قابلیت کی نہیں بلکہ سچے جذبے کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبوب سے التجا کرتا ہے کہ اس کی کم مائیگی کو چھوڑ کر اس کے بے پایاں شوق اور کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار کی سچائی کو دیکھے۔ یہ شعر اس خوبصورت احساس کو اجاگر کرتا ہے کہ خود کو نااہل جانتے ہوئے بھی محبوب کے فضل اور وصل کی امید پر جینا ہی اصل عاشقی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
