کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر ہر رہ گزر میں نقش کف پائے یار دیکھ

“If the longing to behold has truly opened your eyes, behold on every pathway the imprint of the beloved's feet.”

— علامہ اقبال
معنی

اگر دیکھنے کے شوق نے تمہاری آنکھیں کھول دی ہیں، تو ہر راستے پر محبوب کے قدموں کے نشان دیکھو۔

تشریح

یہ شعر بصیرت اور سچی طلب کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں انسان کا دیکھنا محض ظاہری آنکھوں کا محتاج نہیں رہتا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر دل میں دیدار کا سچا شوق بیدار ہو چکا ہے، تو محبوب کو تلاش کرنے کے لیے کسی خاص در کی ضرورت نہیں رہتی۔ پھر نگاہ کو کائنات کی ہر عام راہگزر اور ہر موڑ پر محبوب کے قدموں کے پاکیزہ نشان اور اس کے حسن کی جھلک نظر آنے لگتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

खोली हैं ज़ौक़-ए-दीद ने आँखें तिरी अगर | Sukhan AI