“Look not upon this garden of existence as an estranged stranger; it is a sight truly worth beholding, gaze upon it again and again.”
کائنات کے اس گلشن کو بیگانوں کی طرح مت دیکھو، یہ ایسی چیز ہے جو دیکھنے کے لائق ہے اس لیے اسے بار بار دیکھو۔
شاعر اس کائنات اور زندگی کو ہست و بود کا ایک پررونق گلشن قرار دے کر کہتے ہیں کہ اس میں کسی اجنبی یا لاتعلق مسافر کی طرح نہ گھومو۔ یہ دنیا محض سرسری نظر ڈالنے کے لیے نہیں، بلکہ محبت، حیرت اور شعور کے ساتھ بار بار دیکھنے کے لائق ہے۔ قدرت کا ہر جلوہ ایسا سحر انگیز ہے کہ انسان جتنی بار اس پر نگاہ ڈالتا ہے، حسن و معرفت کے اتنے ہی نئے راز اس پر آشکار ہوتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
