Sukhan AI
غزل

दिल सोज़ से ख़ाली है निगह पाक नहीं है

दिल सोज़ से ख़ाली है निगह पाक नहीं है
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک گہرا اور فلسفیانہ اظہارِ محبت ہے، جس میں شاعر اپنی روح کی پاکیزگی اور اپنی نظر کی سادگی کا بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس عشق کی کیفیت میں، نہ دل مکمل طور پر غم سے پاک ہے اور نہ نظر مکمل طور پر پاک ہے۔ یہ کلام ایک پراسرار محبت کی بات کرتا ہے جو عام اور غیر معمولی کے درمیان جھولتی ہے، اور اس میں محبوب کا بے باک پن مرکزی موضوع اور چیلنج ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल सोज़ से ख़ाली है निगह पाक नहीं है फिर इस में अजब क्या कि तू बेबाक नहीं है
دل سوز سے خالی ہے نگاہ پاک نہیں ہے۔ پھر اس میں عجب کیا کہ تُو بے باک نہیں ہے۔
3
वो आँख कि है सुर्मा-ए-अफ़रंग से रौशन पुरकार ओ सुख़न-साज़ है नमनाक नहीं है
تری آنکھیں عاجبی کاج سے روشن ہیں؛ / تیرا کلام ایک نغمہ ہے، مگر دل کو بھلا نہیں۔
4
क्या सूफ़ी ओ मुल्ला को ख़बर मेरे जुनूँ की उन का सर-ए-दामन भी अभी चाक नहीं है
او سُوؔفِی اور مُلا کو میرے جنون کی خبر نہیں، ان کا تو سرِ دامن بھی ابھی چَکلا نہیں ہے۔
5
कब तक रहे महकूमी-ए-अंजुम में मिरी ख़ाक या मैं नहीं या गर्दिश-ए-अफ़्लाक नहीं है
میری خاک کتنا عرصہ ستارےوں کی قید میں رہے گی، یا یہ نہ میں ہوں اور نہ افلاک کا گردش کرنا۔
6
बिजली हूँ नज़र कोह ओ बयाबाँ पे है मेरी मेरे लिए शायाँ ख़स-ओ-ख़ाशाक नहीं है
میں بجلی ہوں، میری نظر اس بچھا ہوا صحرا پر ہے۔ میرے لیے خُوشبو اور پھولوں کا کوئی محبوب مناسب نہیں ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.