वो आँख कि है सुर्मा-ए-अफ़रंग से रौशन
पुरकार ओ सुख़न-साज़ है नमनाक नहीं है
“Your eyes are illuminated by the kohl of the foreigner; / Your voice is a melody, yet it is not pleasing.”
— علامہ اقبال
معنی
تری آنکھیں عاجبی کاج سے روشن ہیں؛ / تیرا کلام ایک نغمہ ہے، مگر دل کو بھلا نہیں۔
تشریح
یہ شعر محبوب کی وہ دلکش، مگر دور کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ وہ آنکھوں میں ایک عجیب نکھار لیے ہوئے ہے، اور بات کرنے میں بھی مہارت رکھتی ہے، لیکن शायर کو یہ احساس ہوا کہ وہ دل سے کسی کے لیے نہیں ہوتی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
