غزل
असर करे न करे सुन तो ले मिरी फ़रियाद
असर करे न करे सुन तो ले मिरी फ़रियाद
یہ غزل ایک رُوحانی پکار ہے، جس میں شاعر اپنے درد اور فریاد کو سناوانے کی التجا کرتا ہے۔ وہ اپنی آزادی اور بے بسی کا بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کسی کے احسان کا طالب نہیں ہے۔ آخر میں، وہ اپنی کمزوری اور محبوب کی کرم پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
असर करे न करे सुन तो ले मिरी फ़रियाद
नहीं है दाद का तालिब ये बंदा-ए-आज़ाद
چاہے آپ غور کریں یا نہ کریں، میری فریاد سن لیں۔ میں ایک آزاد بندہ ہوں، جو کسی کے احسان یا فضل کا طالب نہیں ہے۔
2
ये मुश्त-ए-ख़ाक ये सरसर ये वुसअ'त-ए-अफ़्लाक
करम है या कि सितम तेरी लज़्ज़त-ए-ईजाद
کیا یہ مٹھی بھر خاک ہے، یہ سرسراہٹ سے بھرا وسیع آسمان، کیا یہ تیرے وجود کی لذت کا کرم ہے یا ستم؟
3
ठहर सका न हवा-ए-चमन में ख़ेमा-ए-गुल
यही है फ़स्ल-ए-बहारी यही है बाद-ए-मुराद
گلوں کا خیمہ ہوا میں ٹھہر نہ سکا، یہ بہار کا موسم ہے، یہ بادِ مُراد ہے۔
4
क़ुसूर-वार ग़रीब-उद-दयार हूँ लेकिन
तिरा ख़राबा फ़रिश्ते न कर सके आबाद
میں قصور وار، غریب اور دایاؔر ہوں لیکن تیرا خرابہ فرشتوں سے بھی آباد نہ ہو سکا۔
5
मिरी जफ़ा-तलबी को दुआएँ देता है
वो दश्त-ए-सादा वो तेरा जहान-ए-बे-बुनियाद
وہ میری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے، وہ دشتِ سادہ، وہ تیرا جہاںِ بے بنیاد۔
6
ख़तर-पसंद तबीअत को साज़गार नहीं
वो गुल्सिताँ कि जहाँ घात में न हो सय्याद
خطر پسند طبیعت کو سجایا نہیں جا سکتا، وہ گلستان کہ جہاں شاعر کی ہنر میں خطرہ نہ ہو۔
7
मक़ाम-ए-शौक़ तिरे क़ुदसियों के बस का नहीं
उन्हीं का काम है ये जिन के हौसले हैं ज़ियाद
شوق کی وہ منزل آپ کی مقدس فضل و کرم میں نہیں، یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کے حوصلے زیادہ ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
