غزل

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
مرزا غالب· Ghazal· 4 shers· radif: को देखते हैं

یہ غزل ہجر کی بے چینی، انتظار کے اضطراب اور محبوب کی ناگہانی آمد پر فرطِ حیرت و مسرت کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔ اس میں عاشق کے دل کی بے تاب امیدوں اور محبوب کے جلوے کے ناقابلِ یقین احساس کو نہایت دلکش اور پرتاثیر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →
نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ये हम जो हिज्र में दीवार-ओ-दर को देखते हैं कभी सबा को कभी नामा-बर को देखते हैं
یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
جدائی کی حالت میں ہم بے بسی سے در و دیوار کو تکتے رہتے ہیں، اور محبوب کی خبر کی امید میں کبھی صبح کی ہوا کو اور کبھی قاصد کو دیکھتے ہیں۔
2
वो आए घर में हमारे ख़ुदा की क़ुदरत है कभी हम उन को कभी अपने घर को देखते हैं
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
یہ خدا کی قدرت ہے کہ وہ ہمارے گھر آئے ہیں؛ ہم حیرت سے کبھی ان کو دیکھتے ہیں اور کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔
3
नज़र लगे न कहीं उस के दस्त-ओ-बाज़ू को ये लोग क्यूँ मिरे ज़ख़्म-ए-जिगर को देखते हैं
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
یہ لوگ میرے دل کے زخم کو اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وار کرنے والے کے ہاتھ اور بازو کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔
4
तिरे जवाहिर-ए-तुर्फ़-ए-कुलह को क्या देखें हम औज-ए-ताला-ए-लाला-ओ-गुहर को देखते हैं
ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
ہم تمہاری کلاہ کے کنارے پر سجے ہوئے جواہرات کو کیا دیکھیں، ہم تو اس لعل اور موتی کے بلند بخت کو دیکھتے ہیں جنہیں تم تک پہنچنے کا شرف حاصل ہوا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.