“Why marvel at the gems that grace the plume upon your cap? We behold the rising fortune of the ruby and the pearl.”
ہم تمہاری کلاہ کے کنارے پر سجے ہوئے جواہرات کو کیا دیکھیں، ہم تو اس لعل اور موتی کے بلند بخت کو دیکھتے ہیں جنہیں تم تک پہنچنے کا شرف حاصل ہوا۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی شان اور حسن کی تعریف کا بڑا پیارا انداز اپنایا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم تمہاری ٹوپی یا کلاہ پر سجے جواہرات کو کیا دیکھیں، ہم تو دراصل ان لعل و گوہر کی خوش قسمتی پر رشک کر رہے ہیں۔ گویا ان پتھروں کی اصل قیمت ان کی چمک میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ انہیں تمہارے سر کی قربت نصیب ہوئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
