“That they have graced my home is a miracle divine; now I gaze at them in wonder, now at this house of mine.”
یہ خدا کی قدرت ہے کہ وہ ہمارے گھر آئے ہیں؛ ہم حیرت سے کبھی ان کو دیکھتے ہیں اور کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔
غالبؔ نے اس شعر میں محبوب کی اچانک آمد پر دل میں جاگنے والی حیرت اور بے پناہ خوشی کو کمال خوبصورتی سے قید کیا ہے۔ عاشق کی نظریں کبھی محبوب کے درخشاں حسن پر ٹھہرتی ہیں اور کبھی اپنے خستہ حال گھر پر، جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ یہ خواب ہے یا حقیقت۔ اپنی عاجزی اور محبوب کی عظمت کے اس فرق کے بیچ، وہ اس لمحے کو بس قدرت کا ایک لاجواب معجزہ سمجھ کر سجدۂ شکر بجا لاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
