“In separation, it is we who gaze at the door and wall / Looking now towards the morning breeze, now towards the messenger.”
جدائی کی حالت میں ہم بے بسی سے در و دیوار کو تکتے رہتے ہیں، اور محبوب کی خبر کی امید میں کبھی صبح کی ہوا کو اور کبھی قاصد کو دیکھتے ہیں۔
اس شعر میں ہجر کے عذاب اور محبوب کے انتظار کی بے کل کیفیت کو کمال خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ تنہائی کے مارے عاشق کی نظریں در و دیوار پر ٹکی رہتی ہیں کہ شاید کسی سمت سے وصال کی کوئی امید جاگ اٹھے۔ وہ کبھی بادِ صبا کو حسرت سے دیکھتا ہے کہ کاش وہ محبوب کی خوشبو یا کوئی سندیسہ لے آئے، اور کبھی نامہ بر کی راہ تکتا ہے کہ شاید وہ کوئی مکتوب تھما دے۔ یہ تصویر دراصل محبت میں امید اور ناامیدی کے درمیان جھولتے ہوئے بے بس دل کی سچی داستان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
