“Lest the evil eye strike the prowess of their hands and arms, why do these people gaze so intently upon the wound in my heart?”
یہ لوگ میرے دل کے زخم کو اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وار کرنے والے کے ہاتھ اور بازو کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔
اس شعر میں عشق کا عجیب ہی والہانہ اور بے لوث انداز جھلکتا ہے۔ عاشق کو محبوب کے وار سے جگر پر کاری زخم لگا ہے، مگر اسے اپنے درد یا جان جانے کا ذرا بھی ملال نہیں ہے۔ اسے تو بس یہ ڈر ستا رہا ہے کہ لوگ اس زخم کے کمال اور گہرائی کو اتنی حیرت سے کیوں تک رہے ہیں، مبادا مارنے والے کے باکمال ہاتھوں کو کسی کی نظرِ بد ہی نہ لگ جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
