غزل
وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے
وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے
یہ غزل محبوب کے لیے عاشق کی شدید تڑپ کو بیان کرتی ہے، حتیٰ کہ خواب میں اس کی لمحاتی موجودگی کی آرزو بھی کی جاتی ہے تاکہ اس کے بے چین دل کو سکون مل سکے۔ یہ ادھوری خواہشات اور محبوب کے دلکش مگر تکلیف دہ رویوں سے ہونے والی اذیت کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر اپنی گہری تکلیف اور آرزو کو کم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی پہچان یا تسکین، خواہ وہ ایک نظر ہو، ایک لفظ ہو یا ایک سادہ اشارہ ہو، کی تلاش میں ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
वो आ के ख़्वाब में तस्कीन-ए-इज़्तिराब तो दे
वले मुझे तपिश-ए-दिल मजाल-ए-ख़्वाब तो दे
وہ آ کر خواب میں میری بے چینی کو تسکین تو دے، مگر میرے دل کی تپش مجھے سونے اور خواب دیکھنے کی مجال کہاں دیتی ہے۔
2
करे है क़त्ल लगावट में तेरा रो देना
तिरी तरह कोई तेग़-ए-निगह को आब तो दे
تمہارا بناوٹ بھرا رونا قاتلانہ ہے۔ کاش کوئی تمہاری طرح اپنی نگاہ کی تلوار کو ایسی آبداری دے پاتا۔
3
दिखा के जुम्बिश-ए-लब ही तमाम कर हम को
न दे जो बोसा तो मुँह से कहीं जवाब तो दे
بس اپنے ہونٹوں کی جنبش دکھا کر ہی ہمیں تمام کر دو۔ اگر تم بوسہ نہیں دیتے تو کم از کم اپنے منہ سے کوئی جواب ہی دے دو۔
4
पिला दे ओक से साक़ी जो हम से नफ़रत है
पियाला गर नहीं देता न दे शराब तो दे
اے ساقی، اگر تجھے مجھ سے نفرت ہے تو مجھے اپنی اوک (ہتھیلیوں) سے پلا دے۔ اگر تو پیالہ نہیں دیتا تو نہ دے، مگر شراب تو دے۔
5
'असद' ख़ुशी से मिरे हाथ पाँव फूल गए
कहा जो उस ने ज़रा मेरे पाँव दाब तो दे
اسد، جب اُس نے کہا کہ میرے پاؤں دبا دو، تو میں خوشی سے اتنا بھر گیا کہ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
6
ये कौन कहवे है आबाद कर हमें लेकिन
कभी ज़माना मुराद-ए-दिल-ए-ख़राब तो दे
یہ کون کہتا ہے کہ ہمیں آباد کرو؟ لیکن کبھی زمانہ اس خراب دل کی مراد تو دے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
