غزل
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
یہ غزل شاعر کی بے نیازی اور اس کے عالی ذہن کی عاجزی کو بیان کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا پر افسوس کرتی ہے جہاں ظاہری فراوانی کے باوجود سچی روح کی کمی ہے، اور محبوب کی سنگ دلی پر گہرا غم ظاہر کرتی ہے، جس سے شاعر کی فریاد پر پہاڑ بھی عاجز آ جاتے ہیں۔ بالآخر، یہ ایک گہری تھکن کی عکاسی کرتی ہے جہاں درد اور سطحی آرام کے متضاد وجود کے درمیان بے قرار شوق کے صرف نشانات باقی رہ جاتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तग़ाफ़ुल-दोस्त हूँ मेरा दिमाग़-ए-इज्ज़ 'आली है
अगर पहलू-तही कीजे तो जा मेरी भी ख़ाली है
میں بے پروائی کا دوست ہوں، اور میرا عاجزانہ ظرف بلند ہے۔ اگر آپ پہلو تہی کریں، تو میری جگہ بھی خالی ہے۔
2
रहा आबाद 'आलम अहल-ए-हिम्मत के न होने से
भरे हैं जिस क़दर जाम-ओ-सुबू मय-ख़ाना ख़ाली है
دنیا اہل ہمت لوگوں کے نہ ہونے کی وجہ سے آباد ہے۔ اگرچہ جتنے بھی جام اور سبو بھرے ہوئے ہیں، لیکن مے خانہ خالی ہے۔
3
बुतान-ए-शोख़ का दिल सख़्त होगा किस क़दर या-रब
मिरी फ़रियाद को कोहसार-साज़-ए-'इज्ज़ माली है
یا رب، ان شوخ بتوں کا دل کتنا سخت ہوگا! میری فریاد نے اپنی عاجزی میں عجز کا ایک پہاڑ بنا دیا ہے۔
4
निशान-ए-बे-क़रार-ए-शौक़ जुज़ मिज़्गाँ नहीं बाक़ी
कई काँटे हैं और पैराहन-ए-शक्ल-ए-निहाली है
بے قرار شوق کی نشانی صرف پلکیں ہی باقی ہیں۔ کئی کانٹے ہیں اور لباس ایک ننھے پودے کی شکل کا ہے۔
5
जुनूँ कर ऐ चमन तहरीर-ए-दर्स-ए-शग़्ल-ए-तन्हाई
निगाह-ए-शौक़ को सहरा भी दीवान-ए-ग़ज़ाली है
اے چمن، تنہائی کے جنون کا سبق لکھ، کیونکہ شوق کی نگاہ کے لیے، صحرا بھی غزالی دیوان ہے۔
6
सियह-मस्ती है अहल-ए-ख़ाक को अब्र-ए-बहारी से
ज़मीं जोश-ए-तरब से जाम-ए-लबरेज़-ए-सिफ़ाली है
ابر بہاری سے اہل خاک پر گہری سرشاری چھا جاتی ہے۔ زمین خود جوش طرب سے ایک لبریز سفالی جام بن جاتی ہے۔
7
'असद' मत रख त'अज्जुब ख़र-दिमाग़-हा-ए-मुनइ'म का
कि ये नामर्द भी शेर-अफ़्गन-ए-मैदान-ए-क़ाली है
اسد، امیروں کے احمق دماغوں پر تعجب نہ کرو۔ یہ نامرد بھی قالین کے میدان میں شیر افگن ہوتے ہیں، یعنی ان کی بہادری صرف آرام دہ اور محفوظ ماحول میں ہی ظاہر ہوتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
