غزل
سیماب پشت گرمی آئنہ دے ہے ہم
سیماب پشت گرمی آئنہ دے ہے ہم
یہ غزل ایک بے قرار دل کی گہری ہنگامہ خیزی کو بیان کرتی ہے، جس کے شدید جذبات کو آئینے کی تابناک مگر ممکنہ طور پر فانی گرمی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ بہار کے دنوں کے اختتام کے ساتھ خوشی کی عارضی نوعیت کو دلسوزی سے پیش کرتی ہے۔ اشعار محبوب کی جدائی کے بعد کے کربناک انجام کو دکھاتے ہیں، جہاں عاشق اپنے ہی غم میں جل رہا ہے، اور اس کا وجود محبوب کی گزشتہ موجودگی کے محض نقوش قدم تک محدود ہو گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
सीमाब-पुश्त गर्मी-ए-आईना दे है हम
हैराँ किए हुए हैं दिल-ए-बे-क़रार के
پارے سے پُشت آئینہ کی گرمی نے ہمارے بے قرار دل کو حیران کر دیا ہے۔
2
आग़ोश-ए-गुल कुशूदा बरा-ए-विदा है
ऐ 'अंदलीब चल कि चले दिन बहार के
گلاب کی آغوش وداع کے لیے کھلی ہے۔ اے عندلیب، چلو کہ بہار کے دن گزر گئے ہیں۔
3
यूँ बाद-ए-ज़ब्त-ए-अश्क फिरूँ गिर्द यार के
पानी पिए किसू पे कोई जैसे वार के
یوں اپنے آنسوؤں کو ضبط کیے ہوئے، میں اپنے محبوب کے گرد گھومتا ہوں، جیسے کوئی کسی پر پانی وار کر (اتار کر) پھینک دیتا ہے۔
4
बाद-अज़-विदा-ए-यार ब-ख़ूँ दर तपीदा हैं
नक़्श-ए-क़दम हैं हम कफ़-ए-पा-ए-निगार के
محبوب کے رخصت ہونے کے بعد، ہم خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ہم اس کے پیارے قدموں کے نقشِ قدم ہیں۔
5
ज़ाहिर है हम से कुल्फ़त-ए-बख़्त-ए-सियाह-रोज़
गोया कि तख़्ता-ए-मश्क़ हैं ख़त-ए-ग़ुबार के
ہم سے بدقسمتی اور سیاہ دنوں کی تکلیف صاف ظاہر ہے، گویا کہ ہم خطِ غبار (انتہائی باریک خط) کی مشق کے لیے ایک تختی ہیں۔
6
हसरत से देख रहते हैं हम आब-ओ-रंग-ए-गुल
मानिंद-ए-शबनम अश्क हैं मिज़्गान-ए-ख़ार के
ہم پھول کے آب و رنگ (خوبصورتی) کو حسرت سے دیکھتے رہتے ہیں۔ ہمارے آنسو کانٹوں کی پلکوں پر شبنم کی مانند ہیں۔
7
हम मश्क़-ए-फ़िक्र-ए-वस्ल-ओ-ग़म-ए-हिज्र से 'असद'
लाइक़ नहीं रहे हैं ग़म-ए-रोज़गार के
اسد، فکرِ وصل اور غمِ ہجر کی مشق سے، ہم اب غمِ روزگار کے لائق نہیں رہے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
