आग़ोश-ए-गुल कुशूदा बरा-ए-विदा है
ऐ 'अंदलीब चल कि चले दिन बहार के
“The rose's embrace is open for farewell,O nightingale, come, for spring's days have gone.”
— مرزا غالب
معنی
گلاب کی آغوش وداع کے لیے کھلی ہے۔ اے عندلیب، چلو کہ بہار کے دن گزر گئے ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
