غزل
قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں مرے شیون کو
قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں مرے شیون کو
یہ غزل قید اور یکطرفہ محبت سے پیدا ہونے والے شاعر کے گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے۔ وہ شکایت کرتا ہے کہ اس کی فریادیں آزاد دنیا کی طرف سے سنی نہیں جاتیں اور محبوب اس کے گہرے دکھوں سے لاپرواہ رہتا ہے۔ یہ نظم چاہت کے کرب اور عاشقوں کو جدا کرنے والی بیرونی کشمکش پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क़फ़स में हूँ गर अच्छा भी न जानें मेरे शेवन को
मिरा होना बुरा क्या है नवा-संजान-ए-गुलशन को
اگر قفس میں میری فریاد کو اچھا نہ بھی سمجھا جائے، تو باغ کے گیت گانے والوں کے لیے میری موجودگی میں کیا برائی ہے؟
2
नहीं गर हमदमी आसाँ न हो ये रश्क क्या कम है
न दी होती ख़ुदाया आरज़ू-ए-दोस्त दुश्मन को
نہیں گر ہمدمی آساں، تو کیا یہ رشک یا اذیت کم ہے؟ اے خدا، کاش تُو نے دشمن کو بھی دوست کی آرزو نہ دی ہوتی۔
3
न निकला आँख से तेरी इक आँसू उस जराहत पर
किया सीने में जिस ने ख़ूँ-चकाँ मिज़्गान-ए-सोज़न को
تمہاری آنکھ سے اس زخم پر ایک بھی آنسو نہ نکلا، جس زخم نے میرے سینے میں سوئی کی پلکوں کو خون بہانے والا بنا دیا۔
4
ख़ुदा शरमाए हाथों को कि रखते हैं कशाकश में
कभी मेरे गरेबाँ को कभी जानाँ के दामन को
خدا ان ہاتھوں کو شرمندہ کرے جو مسلسل کشمکش میں لگے رہتے ہیں، کبھی میرے گریبان کو کھینچتے ہیں تو کبھی جاناں کے دامن کو۔
5
अभी हम क़त्ल-गह का देखना आसाँ समझते हैं
नहीं देखा शनावर जू-ए-ख़ूँ में तेरे तौसन को
ہم ابھی قتل گاہ کا نظارہ آسان سمجھتے ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کے گھوڑے کو خون کی ندی میں تیرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔
6
हुआ चर्चा जो मेरे पाँव की ज़ंजीर बनने का
किया बेताब काँ में जुम्बिश-ए-जौहर ने आहन को
جب میرے پاؤں کی زنجیر بنانے کا چرچا ہوا، تو کان میں لوہے کے جوہر کی جنبش نے اسے بیتاب کر دیا۔
7
ख़ुशी क्या खेत पर मेरे अगर सौ बार अब्र आवे
समझता हूँ कि ढूँडे है अभी से बर्क़ ख़िर्मन को
میرے کھیت پر اگر سو بار بھی بادل آئیں تو کیا خوشی ہوگی؟ میں سمجھتا ہوں کہ بجلی ابھی سے خرمن کو ڈھونڈ رہی ہے۔
8
वफ़ा-दारी ब-शर्त-ए-उस्तुवारी अस्ल ईमाँ है
मरे बुत-ख़ाने में तो का'बे में गाड़ो बरहमन को
وفاداری بشرطِ استواری اصل ایمان ہے۔ اگر کوئی برہمن میرے بت خانے میں مرے تو اسے کعبے میں دفناؤ۔
9
शहादत थी मिरी क़िस्मत में जो दी थी ये ख़ू मुझ को
जहाँ तलवार को देखा झुका देता था गर्दन को
میری قسمت میں شہادت لکھی تھی، اسی لیے مجھے یہ خو دی گئی تھی۔ جہاں بھی میں نے تلوار کو دیکھا، میں اپنی گردن جھکا دیتا تھا۔
10
न लुटता दिन को तो कब रात को यूँ बे-ख़बर सोता!
रहा खटका न चोरी का दुआ देता हूँ रहज़न को
اگر میں دن کو نہ لٹتا، تو رات کو یوں بے خبر کیسے سو پاتا؟ اب چوری کا کوئی خطرہ نہیں رہا، اس لیے میں رہزن کو دعا دیتا ہوں۔
11
सुख़न क्या कह नहीं सकते कि जूया हूँ जवाहिर के
जिगर क्या हम नहीं रखते कि खोदें जा के मादन को
شاعر سوال کرتا ہے کہ کیا ہم سخن نہیں کہہ سکتے جبکہ ہم جواہر کے جویا ہیں؟ کیا ہم اتنا جگر نہیں رکھتے کہ جا کر مادن کو کھودیں؟
12
मिरे शाह-ए-सुलैमाँ-जाह से निस्बत नहीं 'ग़ालिब'
फ़रीदून ओ जम ओ के ख़ुसरव ओ दाराब ओ बहमन को
غالب کہتے ہیں کہ میرے سلیمان جیسی شان و شوکت والے بادشاہ سے فریدون، جمشید، کی خسرو، داراب اور بہمن جیسے بادشاہوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
