غزل

نقش ناز بت تناز بہ آغوش رقیب

نقش ناز بت تناز بہ آغوش رقیب
مرزا غالب· Ghazal· 11 shers· radif: माँगे

یہ غزل ایک ایسے عاشق کی شدید تکلیف اور مایوسی کو شاندار طریقے سے پیش کرتی ہے جو محبوب کی بے رخی اور سنگ دلی سے بے چین ہے، خاص طور پر جب وہ اسے کسی رقیب کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اشعار یک طرفہ محبت کی اُس فنا کُن نوعیت کو طاقتور طریقے سے بیان کرتے ہیں، جہاں غم اتنا گہرا ہوتا ہے کہ وہ بے ترتیب بیان کا متقاضی ہوتا ہے، اور خواہش انسان کے وجود کے مرکز تک سرایت کر جاتی ہے۔ یہ اس عاشق کی کسک کو گہرائی میں بیان کرتی ہے جب محبوب اس کی حیرانی میں لطف اندوز ہوتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
नक़्श-ए-नाज़-ए-बुत-ए-तन्नाज़ ब-आग़ोश-ए-रक़ीब पा-ए-ताऊस पए-ख़ामा-ए-मानी माँगे
نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب پاۓ طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے
رقیب کی آغوش میں شوخ محبوب کے نازک نقش اتنے گہرے ہیں کہ ان کے معنی لکھنے کے لیے طاؤس کے پاؤں سے قلم کی ضرورت ہے۔
2
तू वो बद-ख़ू कि तहय्युर को तमाशा जाने ग़म वो अफ़्साना कि आशुफ़्ता-बयानी माँगे
تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
تُو اتنا بدخُو ہے کہ حیرت کو محض ایک تماشا سمجھتا ہے۔ اور غم ایک ایسی داستان ہے جو دیوانہ وار اور بے ترتیب بیان کی متقاضی ہے۔
3
वो तप-ए-इश्क़-ए-तमन्ना है कि फिर सूरत-ए-शम्अ' शो'ला ता-नब्ज़-ए-जिगर रेशा-दवानी माँगे
وہ تپ عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع شعلہ تا نبض جگر ریشہ داوانی مانگے
عشقِ تمنا کا بخار اتنا شدید ہے کہ اس کا شعلہ، شمع کی مانند، جگر کی نبض تک اپنی رگیں پھیلانا چاہتا ہے۔
4
तिश्ना-ए-ख़ून-ए-तमाशा जो वो पानी माँगे आइना रुख़्सत-ए-अंदाज़-ए-रवानी माँगे
تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے آئنہ رخصت انداز روانی مانگے
اگر وہ خون کا پیاسا نظارہ پانی مانگے، تو آئینہ اپنی روانی کے انداز کی رخصت مانگتا ہے۔
5
रंग ने गुल से दम-ए-अर्ज़-ए-परेशानी-ए-बज़्म बर्ग-ए-गुल रेज़ा-ए-मीना की निशानी माँगे
رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
جب پھول کا رنگ محفل کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے، تو پھول کی ہر پنکھڑی ٹوٹے ہوئے شیشے کے ریزے کی نشانی مانگتی ہے۔
6
ज़ुल्फ़ तहरीर-ए-परेशान-ए-तक़ाज़ा है मगर शाना-साँ मू-ब-ज़बाँ ख़ामा-ए-मानी माँगे
زلف تحریر پریشان تقاضا ہے مگر شانہ ساں مو بہ زباں خامۂ مانی مانگے
اس کی بکھری زلفیں ایک پریشان درخواست کی تحریر سی ہیں، لیکن کنگھی کی طرح ہر ایک بال معنی کے قلم کا مطالبہ کرتا ہے۔
7
आमद-ए-ख़त से न कर ख़ंदा-ए-शीरीं कि मबाद चश्म-ए-मोर आईना-ए-दिल निगरानी माँगे
آمد خط سے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد چشم مور آئینۂ دل نگرانی مانگے
آمدِ خط پر اپنی شیریں ہنسی مت کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ چیونٹی کی آنکھ بھی تمہارے دل کے آئینے کی نگہبانی مانگے۔
8
हूँ गिरफ़्तार-ए-कमीं-गाह-ए-तग़ाफ़ुल कि जहाँ ख़्वाब सय्याद से पर्वाज़-ए-गिरानी माँगे
ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں خواب صیاد سے پرواز گرانی مانگے
میں تغافل کی گھات گاہ میں گرفتار ہوں جہاں خواب صیاد سے بھاری پرواز کا مطالبہ کرتے ہیں۔
9
चश्म पर्वाज़ ओ नफ़स ख़ुफ़्ता मगर ज़ोफ़-ए-उमीद शहपर-ए-काह पए-मुज़्दा-रिसानी माँगे
چشم پرواز و نفس خفتہ مگر ضعف امید شہپر کاہ پئے مژدہ رسانی مانگے
آنکھیں پرواز کر رہی ہیں اور سانس ساکن ہے، پھر بھی امید کی کمزوری خوشخبری پہنچانے کے لیے ایک تنکے کا پر مانگتی ہے۔
10
वहशत-ए-शोर-ए-तमाशा है कि जूँ निकहत-ए-गुल नमक-ए-ज़ख़्म-ए-जिगर बाल-फ़िशानी माँगे
وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل نمک زخم جگر بال فشانی مانگے
کیا یہ تماشے کا شور اور وحشت ہے کہ دل کے زخم کا نمک، پھول کی خوشبو کی طرح، خود کو بکھیرنا چاہتا ہے؟
11
गर मिले हज़रत-ए-'बेदिल' का ख़त-ए-लौह-ए-मज़ार 'असद' आईना-ए-पर्वाज़-ए-मआनी माँगे
گر ملے ؔحضرت بیدل کا خط لوح مزار اسدؔ آئینۂ پرواز معانی مانگے
گر حضرت 'بیدل' کی مزار کی تختی کا لکھا مل جائے، تو 'اسد' (غالب) اس کے معانی کی اونچی پرواز کو سمجھنے کے لیے ایک آئینہ مانگے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.