غزل
لُوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولے
لُوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولے
یہ غزل غالب کی گہری مایوسی اور زندگی کے بوجھ کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر ایک خوشگوار خواب کی آرزو کرتا ہے لیکن اسے اس کی قیمت چکانے کا خوف ستا تا ہے۔ وہ فنا کے جنون کو اپناتا ہے، اپنی ہستی کو راہ کی گرد کی مانند بے وقعت کرنے کی خواہش رکھتا ہے، اور کہتا ہے کہ موت کے بعد بھی اس کے دل کی وحشت ایک گرد آلود صحرا پیدا کر دے گی۔ آخر میں، وہ محبوب کے ناز و ادا کے سامنے اپنے دستار کو خاک میں ملا دینے کی انتہا ئی عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
लूँ वाम बख़्त-ए-ख़ुफ़्ता से यक-ख़्वाब-ए-खुश वले
'ग़ालिब' ये ख़ौफ़ है कि कहाँ से अदा करूँ
لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
میں اپنے سوئے ہوئے نصیب سے ایک خوشگوار خواب قرض لے لوں، لیکن غالب، یہ خوف ہے کہ میں اسے کہاں سے ادا کروں؟
2
ख़ुश वहशते कि अर्ज़-ए-जुनून-ए-फ़ना करूँ
जूँ गर्द-ए-राह जामा-ए-हस्ती क़बा करूँ
خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
کتنی خوشگوار ہے وہ دیوانگی کہ میں اپنی فنا کی خواہش کا اظہار کر سکوں۔ میں وجود کے اس لباس کو راہ کی دھول کی طرح حقیر سمجھتے ہوئے اُتار پھینکنا چاہتا ہوں۔
3
गर बा'द-ए-मर्ग वहशत-ए-दिल का गिला करूँ
मौज-ए-ग़ुबार से पुर यक दश्त वा करूँ
گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
اگر بعدِ مرگ میں دل کی وحشت کا گلہ کروں، تو میں غبار کی موجوں سے بھرا ایک صحرا وا کروں گا۔
4
आ ऐ बहार-ए-नाज़ कि तेरे ख़िराम से
दस्तार गर्द-ए-शाख़-ए-गुल-ए-नक़्श-ए-पा करूँ
آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
دستار گرد شاخ گل نقش پا کروں
اے ناز کی بہار، آ کہ تیری خوبصورت چال سے میں اپنی دستار کو گلاب کی شاخوں پر تیرے نقشِ پا کی طرح ایک ہار بنا دوں۔
5
ख़ुश ऊफ़्तादगी कि ब-सहरा-ए-इन्तिज़ार
जूँ जादा गर्द-ए-रह से निगह सुर्मा-सा करूँ
خوش اوفتادگی کہ بہ صحراۓ انتظار
جوں جادہ گرد رہ سے نگہ سرمہ سا کروں
کیا ہی مبارک ہے یہ عاجزی کہ انتظار کے اس صحرا میں، میں راستے کی گرد سے اپنی نگاہ کو سُرمے جیسا کروں، بالکل ایک راستے کی مانند۔
6
सब्र और ये अदा कि दिल आवे असीर-ए-चाक
दर्द और ये कमीं कि रह-ए-नाला वा करूँ
صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
صبر اور یہ انداز، کہ دل پھٹے گریبان کا قیدی بن جائے۔ درد اور یہ کمزوری، کہ مجھے نالہ و فریاد کا راستہ کھولنا پڑے۔
7
वो बे-दिमाग़-ए-मिन्नत-ए-इक़बाल हूँ कि मैं
वहशत ब-दाग़-ए-साया-ए-बाल-ए-हुमा करूँ
وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
میں خوش قسمتی کی عنایت کا اس قدر بے پرواہ ہوں کہ اپنی وحشت (تنہائی) کو ہما پرندے کے پر کے سائے کے داغ سے بھی پہچان دوں گا۔
8
वो इल्तिमास-ए-लज्ज़त-ए-बे-दाद हूँ कि मैं
तेग़-ए-सितम को पुश्त-ए-ख़म-ए-इल्तिजा करूँ
وو التماس لذت بے داد ہوں کہ میں
تیغ ستم کو پشت خم التجا کروں
میں بے داد کے لطف کا ایسا طالب ہوں کہ ستم کی تلوار کو ہی اپنی فریاد کی خمیدہ پشت بنا دوں۔
9
वो राज़-ए-नाला हूँ कि ब-शरह-ए-निगाह-ए-इज्ज़
अफ़्शाँ ग़ुबार-ए-सुर्मा से फ़र्द-ए-सदा करूँ
وو راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجز
افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
میں وہ رازِ نالہ ہوں کہ عاجزانہ نگاہ کی وضاحت سے، سرمے کی گرد سے بھی ایک آواز کو ظاہر کر دوں۔
10
लूँ वाम बख़्त-ए-ख़ुफ़्ता से यक ख़्वाब-ए-ख़ुश असद
लेकिन ये बीम है कि कहाँ से अदा करूँ
لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش اسد
لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
اے اسد، کیا میں اپنی سوئی ہوئی قسمت سے ایک اچھا خواب ادھار لے لوں؟ مگر مجھے یہ ڈر ہے کہ اسے کہاں سے واپس ادا کروں گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
